وزیر اعظم کے پریس ایڈوائزر فہد حسین کس بات کی تنخوا وصول کررہے ہیں؟

اہم حکومتی پریس کانفرنس میں غیر موجودگی پر فہد حسین سے متعلق سوال اٹھنے لگیں ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف کے معاون خصوصی فہد حسین پریس ایڈوائزر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مسلسل میڈیا  سے غائب ہیں۔ حکومت کی اہم ترین پریس کانفرنس سے غائب رہنے پر فہد حسین سوال  اٹھنے لگیں ہیں۔

فہد حسین نے گزشتہ ماہ اپنے عہدے کا چارج سنبھالا مگر وہ کسی حکومتی پریس کانفرنس میں شامل نہیں ہوئے۔ گزشتہ 2 روز میں دواہم ترین پریس کانفرنس ایک سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مصدق ملک جبکہ دوسری سابق گورنرسندھ محمد زبیر اور دانیال عزیز کی کانفرنس میں بھی ان کی غیرموجودگی  کو محسوس کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

عدالتی محاذ پر شریف فیملی کے لیے بُرا دن

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیراعظم کے معاون خصوصی قمر زمان کائرہ  تو روز ہی میڈیا پر جلوہ گر ہوکرحکومتی اقدامات کا دفاع کرتے نظرآرہے ہیں جبکہ دیگرترجمان بھی اپنی موجودگی  کا یقین دلاتے نظرآتے ہیں تاہم وزیراعظم کے پریس ایڈوائزر فہد حسین میڈیا پر  حکومتی پالیسی کا دفاع بھی کریں گے یا صرف پردے کے پیچھے ہی کام کریں گے مگر انکا پردہ کے پیچھے کیا جانے والا کام بھی قابل تعریف  نہیں نظر آتا۔

مفتاح اسماعیل پریس کانفرنس ایسی کرتے ہیں کہ ابھی رو پڑیں گے کہ ہم کنگال ہو گئے جبکہ ایک وفاقی وزیر  معاشی حالات کا رونا روتے ہوئے کہتے ہیں کہ زہر کھانے کے پیسے نہیں جبکہ   اگلے روز ہی  ملک کے  تمام بڑے اخبار ات میں    پہلے صفحات پر  حکومتی تشہیر کے اشتہاراتے چھپ جاتے ہیں۔ حکومت خودنما ئی کیلئے کروڑوں روپے کے شتہارات چھاپ رہی ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ ترکی  کے موقع پرملک کے تمام بڑے اخبارات اس دورے کی تشہیر کے لیے  کروڑوں روپے کے اخراجات کیے گئے تومحسوس ہوا کہ فہد حسین وزیراعظم کے پریس ایڈوائزر ہیں وہی وزیراعظم کو اپنی تشہیر کے اشتہارات چھاپنے کے مشورے دیتے ہونگے۔

گزشتہ ماہ وزیراعظم شہبازشریف نے صحافی فہد حسین کو اپنا پریس ایڈوائزربنایا تومختلف صحافیوں اورسماجی شخصیات کی جانب سے ان  پرتنقید کی گئی کہ ایک صحافی کو حکومتی عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیئے جبکہ فہد حسین ذاتی طورپربھی  کسی صحافی کے حکومتی عہدہ قبول کرنے کے خلاف رہے ہیں۔

فہد حسین کی بطور معاون خصوصی وزیراعظم کا عہدہ قبول کرنے پر معروف صحافی حامد میرنے  دکھ  و افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک بہت بہترین صحافی کھودیا۔ انہوں نے  کہا کہ میں روزانہ کی بنیاد پر فہد حسین کا  قاری رہا ہوں مگران کے حکومتی عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا کالم  نہیں پڑھا۔ حامد میر نے انہیں معاون خصوصی بننے پر مبارکباد بھی دی۔

سینئرصحافی مظہرعباس نے سوشل میڈیا ایپ پر اپنے پیغام میں کہا کہ میری خواہش تھی کہ فہد حسین معاون خصو صی کا عہدہ قبول نہیں کرتے کیونکہ صحافت اورحکومت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

رؤف کلاسرا نے کہا  کہ فہد حسین دی نیوز میں میرے ایڈیٹر رہے ہیں۔ وہ ایک اچھے، شریف آدمی اور پیشہ ور صحافی ہیں لیکن انکے شہبازشریف حکومت میں وزیر بننے کے فیصلے سے صحافت اور صحافیوں کی پہلے سے گرتی ہوئی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا۔ ہم سب اپنے ناقدین کی زد میں آئیں گے جو سمجھتے ہیں کہ ہم بک چکے ہیں۔

 ڈان نیوز کے پروگرام "ذرا ہٹ کے” اینکر اور نامور صحافی مبشرزیدی نے کہا کہ میری رائے میں اگر کوئی صحافی حکومتی عہدہ قبول کرتا ہے تو اسے تقرری کے نوٹیفکیشن سے پہلے جواز کے ساتھ عوامی سطح پر اعلان کرنا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سید فہد حسین ایک روایتی صحافی ہیں جو بلاشبہ ایک ہنر مند صحافی ہیں تاہم یہ عہدہ قبول کرنے کے بعد انہیں سوشل میڈیا کے دور کے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جو ایک مشکل کام ہے۔

متعلقہ تحاریر