جوڈیشنل کمیشن اجلاس کے بعد چیف جسٹس کو چوتھا خط، سندھ ہائیکورٹ کے ججز سے متعلق گفتگو پر اظہار افسوس

جوڈیشنل کمیشن کے رکن جسٹس سجاد علی شاہ نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کو خط لکھ کر  سندھ سے نامزد 2امیدواروں کی دیانتداری سے متعلق کیے گئے تبصروں پر مایوسی کا اظہار کیا

سپریم کورٹ میں پانچ نئے ججز کی تعیناتی کے معاملہ پر جسٹس سجاد علی شاہ نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کو خط لکھ کر  سندھ سے نامزد 2امیدواروں کی دیانتداری سے متعلق کیے گئے تبصروں پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے 9 رکنی جوڈیشل کمیشن کے رکن جسٹس سجاد علی شاہ نے 28 جولائی کو جو ڈیشنل کمیشن پاکستان کے اجلاس میں سندھ سے نامزد امیدواروں کی دیانتداری سے متعلق گفتگو پر افسوس کا اظہار کیا ۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ کے ججز کے لیک ہونے والے خطوط نے سنگین سوالات اٹھا دیئے

جسٹس سجاد علی شاہ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیا ل کو لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ اجلاس میں سندھ سے دو وکلاء کی رائے پر انحصار کر کے سندھ سے تجویز کردہ ججز کے کردار پر سوال اٹھایا گیا جو افسوسناک ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ کے خط کے متن میں کہا گیا کہ  سندھ ہائیکورٹ کے دو سابق چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے رکن ہیں جبکہ دو سپریم کورٹ ججز بھی سندھ ہائیکورٹ سے ہیں۔

خط میں جسٹس سجاد علی شاہ نے کمیشن کے ایک رکن کے اس دعوے پر افسوس کا اظہار کیا جس میں دعویٰ کیا گیا  تھا کہ انہوں نے صوبے کے ایک، دو وکلا کے ذریعے سندھ سے نامزد ججوں کی قابلیت اور اہلیت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

واضح رہے کہ جسٹس سجاد علی شاہ کا یہ خط گزشتہ ہفتے جے سی پی اجلاس کے بعد سے چیف جسٹس کو لکھا گیا چوتھا خط ہے۔اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بھی چیف جسٹس کو خطوط لکھے تھے۔

Facebook Comments Box