اوپن مارکیٹ میں ڈالر 7 روپے مہنگا ہوکر 232 روپے کا ہوگیا
کاروباری ہفتے کے پہلے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 7 روپے اضافہ ہوگیا جس کے بعد ایک ڈالر 232 روپے کا ہوگیا ہے جبکہ انٹر بینک میں بھی امریکی کرنسی کی قدر میں 88 پیسہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث حکومت کو آئی ایم ایف کی مطلوبہ شرائط پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے

پاکستانی روپیہ ایک مرتبہ پھر سے ڈالر کے دباؤ کا شکار ہوگیا ہے۔ آج اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 7 روپے مہنگا ہونے کے بعد 232 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے ۔
امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ آج اوپن مارکیٹ میں ڈالر 7 روپے جبکہ انٹر بینک 88 پیسے مہنگا ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
اگست میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 27 فیصد کمی کے ساتھ 3.2 بلین ڈالر رہا
اسٹیٹ بینک اور مفتاح اسماعیل کی پالیسیز آپس میں میل نہیں کھاتی، ایف پی سی سی آئی
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق آج انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں 88 پیسے اضافہ ہوا جس کے بعد ایک ڈالر 219 روپے 86 پیسے پر بند ہوا۔
Interbank closing #ExchangeRate for todayhttps://t.co/CZSqLwszHJ pic.twitter.com/Rj4O7hL7xn
— SBP (@StateBank_Pak) September 5, 2022
فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں 7 روپے اضافہ ہوا جس کے بعد ایک ڈالر 232 روپے کا ہوگیا ۔
عالمی مایلاتی ادارے آئی ایم ایف کے ریویو دستاویز کے تحت مالی سال 2023 میں ڈالر کی قدر 226روپے تک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث حکومت کو آئی ایم ایف کی مطلوبہ شرائط پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔









