پاکستانی کرکٹ ٹیم نے وہ کر دکھایا جو کوئی نہیں کرسکتا
دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم سب سے کمزور ٹیم زمبابوے سے ہار گئی۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے وہ کارنامہ سرانجام دے دیا ہے جسے آج تک کوئی ٹیم نہیں کر سکی ہے۔ جمعے کے روز ہرارے میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم سب سے کمزور ٹیم زمبابوے سے ہار گئی۔
3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں زمبابوے نے پاکستان کو جیت کے لیے 119 رنز کا ہدف دیا تھا۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی ٹیم کے 78 رنز کے مجموعی اسکور پر 3 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے جس کے بعد انتہائی کم وقفے سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
پاکستانی کھلاڑی پِچ پر موجود تو تھے لیکن شاید وہاں رکنے پر رضامند نہیں تھے۔ بابر اعظم کی وکٹ پاکستان کی شکست کا آغاز ثابت ہوئی جس کے بعد دیگر 7 بلے باز ٹیم کے اسکور میں صرف 21 رنز ہی جوڑ سکے۔
یہ بھی پڑھیے
بابر اعظم ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑنے کے قریب
پاکستانی کرکٹ ٹیم 3 ہندسوں کے مجموعے میں بھی داخل نہیں ہوسکی کیونکہ زمبابوے نے گرین شرٹس کو 99 رنز پر ڈھیر کردیا۔ زمبابوے کرکٹ ٹیم کے بولر لیوک جونگ وے نے میچ میں 4 وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی میچ قرار پائے۔
پاکستان کے 11 میں سے 8 بلے باز 2 ہندسوں میں رنز نہیں بناسکے اور اِن 8 بلے بازوں میں سے 3 ایسے تھے جو صفر پر آؤٹ ہوگئے۔
اس شکست کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مداحوں اور تجزیہ کاروں نے تنقید کی ہے۔ کھیلوں کے سینیئر صحافی اور اینکر پرسن مرزا اقبال بیگ نے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سمیت کوچ اور چیف سلیکٹر سے متعلق سوالات کیے ہیں۔
آخر ہم کب تک بابر اعظم اور محمد رضوان پر انحصار کرتے رہیں گے ؟ کیا ہیڈ کوچ مصباح اور چیف سلیکٹر محمد وسیم اِس کا جواب دیں گے ؟ پاکستای ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کب آۓ گا ؟#PAKvZIM
— Mirza Iqbal Baig (@mirzaiqbal80) April 23, 2021
مرزا اقبال بیگ نے ٹیم کے انتخاب میں ’پسندیدگی اور ناپسند‘ کی ثقافت کو مورد الزام ٹھہرایا اور سابق کپتان شعیب ملک کے اسی تناظر میں دیے گئے بیان کی توثیق بھی کی۔
A message for Pakistan’s team management https://t.co/UQFMOlupYp
— Mirza Iqbal Baig (@mirzaiqbal80) April 23, 2021
انہوں نے لکھا کہ ’ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بارے میں سوچنے کا وقت ہے۔ زمبابوے کے ہاتھوں شرمناک شکست کی ذمہ داری کون لے گا؟‘
Pathetic batting display by Pakistan, its time to think about T20 World Cup. Likes and dislikes have damaged the team combination. Embarrassing defeat at the hands of Zimbabwe 12 ranked side in the world. Who is going to take the responsibility ?#PAKvZIM
— Mirza Iqbal Baig (@mirzaiqbal80) April 23, 2021
سینیئر صحافی عالیہ رشید نے لکھا کہ ’ہماری شرمناک شکست کی ذمہ دار بیٹنگ ہے۔ کیا یونس خان بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے اپنا تجربہ شیئر کریں گے؟‘
Our batting is responsible for d shameful debacle. Will YK share his experience as a batting coach?“Danda nahi uthaa sakta’ means players don’t listen to him! If they don’t, y is he still there? Leave aside techniques ,did u observe any mental progress? https://t.co/STKKhhPDCX
— Aalia Rasheed (@aaliaaaliya) April 23, 2021
سینیئر اسپورٹس رپورٹر فیضان لاکھانی نے لکھا کہ ’5 سال سے زیادہ کے عرصے میں یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی میں 100 سے اسکور کم پر آؤٹ کیا گیا ہو۔ اس طرح کا آخری میچ فروری 2016 میں انڈیا کے خلاف ڈھاکا میں کھیلا گیا تھا۔
This is the first time in more than 5 years when Pakistan is bowled out for less than 100 in a T20I. Last such occasion was in Feb 2016 v India at Dhaka.
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) April 23, 2021
انہوں نے بتایا کہ 119 اب وہ نیا سب سے کم ترین ہدف ہے جس کا ٹی ٹوئنٹی میں تعاقب کرنے میں پاکستان ناکام رہا ہے۔ اس سے قبل 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف یہ ہدف 128 تھا۔
119 is now the new lowest target that Pakistan failed to chase in a T20I. Previous was 128 vs Australia in 2010.
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) April 23, 2021
کرکٹ کے تجزیہ کار عبدالماجد بھٹی نے لکھا کہ ’کرکٹ پر رحم کریں۔ کوچ نہیں سوچ تبدیل کریں۔‘
Fake Breaking news! Asif Ali will play in 1st test against Zimbabwe??? Nothing impossible with this team management????🙏😷 Yar ab bus kar do🙏Cricket par reham karo! Coach nahi soch tabdeel karo😜 pic.twitter.com/gNtoDK8CeY
— Abdul Majid Bhatti (@bhattimajid) April 23, 2021
ایک اور سینئر صحافی شاہد ہاشمی نے لکھا کہ ’سابق فاسٹ بولر شبیر احمد نے گذشتہ روز ہمارے پروگرام میں کہا تھا کہ پاکستانی ٹیم اپنے حریفوں کے مطابق کھیلتی ہے۔ اگر حریف اچھا کھیلتے ہیں تو پاکستان بھی اچھا کھیلتا ہے اور اگر حریف برا کھیلتا ہے تو پاکستان بھی خراب کھیلتا ہے۔‘
Former pacer Shabbir Ahmed gave a great quote in our program yesterday.. "Pakistan team plays as per their rivals, if they play well, Pakistan plays well, if they are bad, Pakistan are also bad.” well said @ShabbirTestCric
— Shahid Hashmi (@hashmi_shahid) April 23, 2021









