لاہور قلندرز کے جارح مزاج بلے باز ٹم ڈیوڈ کون ہیں؟
سنگاپور نژاد کھلاڑی اب تک ٹی ٹونئٹی انٹرنیشنل میچوں کی 14 اننگز میں 158.52 کے اسٹرائیک ریٹ سے 558 رنز بنا چکے ہیں۔
لاہور قلندرز کی ٹیم میں ان کے کھلاڑی ڈیوڈ وائز کے نہ ہونے کی وجہ سے جب ٹم ڈیوڈ کو لاہور قلندرز کا حصہ بنایا گیا تو سب کو حیرانگی ہوئی کہ یہ ٹم ڈیوڈ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ اور اچانک انہیں اتنے ٹورنامنٹ میں کوئی شامل کرلیا گیا؟
ان سوالات کے جواب ٹم ڈیوڈ نے زبان سے نہیں بلکہ اپنے بیٹ سے دیئے اور پہلے ہی دو میچوں میں بالترتیب پندرہ گیندوں پر 23 ناٹ آؤٹ اور 36 گیندوں پر 64 رنز بنا کر سب کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور انہیں لاہور قلندرز نے کیوں ٹیم میں شامل کیا ہے۔ ٹم ڈیوڈ اب تک ٹی ٹونئٹی انٹرنیشنل میچوں کی 14 اننگز میں 46.50 کی اوسط اور 158.52 کے اسٹرائیک ریٹ سے 558 رنز بنا چکے ہیں جبکہ اب تک کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی میچوں میں انہوں نے 38.25 کی اوسط اور 155.33 کے اسٹرائیک ریٹ سے 1033 رنز سکور کر رکھے ہیں۔ یہ ہی اعداد و شمار تھے جنہیں دیکھتے ہوئے لاہور قلندرز نے انہیں ڈیوڈ وائز کے متبادل کے طور پر منتخب کر کے سب کو حیران و پریشان کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور قلندرز کے مداح آئندہ میچز سے خوفزدہ
ٹم ڈیوڈ 1996 کو سنگاپور میں پیدا ہوئے جو ملک بہرحال کرکٹ کے حوالے سے کوئی شہرت نہیں رکھتا۔ ان کے والد پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئر ہیں اور وہ کام کے سلسلے میں آسڑیلیا منتقل ہوگئے ہیں۔ ان کے والد راڈ ڈیوڈ 1997 میں سنگاپور کی جانب سے کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ آسڑیلیا منتقل ہونے کے بعد ٹم ڈیوڈ کا بچپن پرتھ میں ہی گزرا اور وہ اپنے والد کو ایک مقامی کلب کی جانب سے کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھتے رہے اور پھر والد کے ہی نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے بھی کرکٹ کا آغاز کردیا۔
19 سال کی عمر میں ٹم ڈیوڈ نے انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کھیلنا شروع کردی اور نارتھ ایسٹ پریمیئر لیگ میں 2015 میں وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والے کرکٹر بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے ویسٹرن آسڑیلیا کی انڈر 19 کرکٹ کی نمائندگی کی تاہم وہ یہاں زیادہ کامیاب نہ ہوسکے۔ مگر جب انہیں 2018 میں انڈر 23 ٹیم میں موقع ملا تو انہوں نے یہاں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اسی بنیاد پر انہیں بیگ بیش لیگ میں پرتھ سکروچر کی جانب سے کھیلنے کا موقع ملا۔ وہ یہاں زیادہ تر فٹنس مسائل کا شکار رہے اور یہ معاہدہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔
ٹم ڈیوڈ سنگاپور کی جانب سے کرکٹ کھیلنے کے اہل ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ آسڑیلیا کو چھوڑ کر سنگاپور واپس کیوں آگئے ہیں؟ تو ان کا جواب تھا سنگاپور میری جائے پیدائش ہے۔ آسڑیلیا میں میرے لیے کرکٹ کھیلنے کے مواقع محدود ہو چکے تھے جس کے بعد مجھے سنگاپور لوٹنا پڑا۔

ٹم ڈیوڈ کے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے 2019 میں ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں سنگاپور ٹیم کی نمائندگی کی۔ جب ٹم ڈیوڈ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے دوبارہ آسڑیلیا میں کرکٹ کھیلنے کے امکانات موجود ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے رواں بیگ بیش سیزن میں ہوبرٹ ہورکینس کی جانب سے 179 رنز 14 میچوں میں 153.29 کی اوسط سے بنائے ہیں اور ممکن ہے کہ یہی کارکردگی آئندہ سال بھی میرے معاہدے کی راہ کو ہموار کردے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے بہت پسند ہے کہ میں آسڑیلیا میں کرکٹ کھیلوں کیونکہ مقابلے کی بہت زیادہ فضاء آپ کی صلاحیتوں کو نکھار دیتی ہے۔ اس وقت بین الاقوامی کرکٹ میں زیادہ مواقع ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ہیں اور یہی میری توجہ کا مرکز بھی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ لاہور قلندرز کے ساتھ معاملہ کیسے طے پایا؟ تو ان کا جواب تھا کہ لاہور قلندرز کو کسی ایسے بلے باز کی تلاش تھی جو مڈل آرڈر میں رنز کی رفتار کو تیز کرسکے، اسپنرز کو اچھے سے کھیل سکے اور یہ سب کچھ مجھ میں موجود پا کر قلندرز نے مجھے منتخب کرلیا۔









