خاتون امپائر ماریجہ سائیک نے ومبلڈن میں تاریخ رقم کردی

ومبلڈن کی 130 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون نے مردوں کے فائنل مقابلے کے امپائرنگ کے فرائض سرانجام دیے ہیں۔

ماریجہ سائیک نے ومبلڈن مینز سنگلز فائنل کے لیے پہلی خاتون چیئر امپائر کی حیثیت سے فرائض انجام دے کر تاریخ رقم کردی ہے۔

43 سالہ کروشین ماریجہ سائیک مسلسل 15 سالوں سے مختلف چیمپیئن شپس اور پچھلے 10 سالوں سے ڈبلیو ٹی اے فائنلز میں مختلف نوعیت کی خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔ یہ ومبلڈن کی 130 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی خاتون نے مردوں کے فائنل مقابلے میں چیئر امپائر کے فرائض انجام دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ارجنٹینا جیت گیا ہار گیا انگلینڈ

ومبلڈن کا فائنل اتوار کے روز لندن کے آل انگلینڈ لان ٹینس کلب میں کھیلا گیا۔ فائنل 19 مرتبہ گرینڈ سلیم جیتنے والے نوواک جوکووچ اور پہلی بار گرینڈ سلیم میں پہنچنے والے ماتیو بیرتینی کے درمیان کھیلا گیا۔ جوکووچ نے ماتیو بیرتینی کو شکست سے دوچار کرکے 20 گرینڈ سلیم اپنے نام کرلیا ۔

ٹینس کے عالمی نمبر ایک کھلاڑی نوواک جوکووچ 20واں گرینڈ سلیم جیت کر راجر فیڈرر اور رافیل نڈال کی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں۔

43 سالہ ماریجہ سائیک نے 2014 میں ومبلڈن ویمنز فائنل اور 2017 میں ویمنز ڈبلز فائنل کے لیے چیئر امپائر کے فرائض سرانجام دیے تھے۔

ماریجہ سائیک نے 2016 میں ریو اولمپکس میں خواتین کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

ومبلڈن چیمپئن شپ انتظامیہ کی جانب سے ہفتے کے روز ماریجہ سائیک کے نام کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے فیصلے کو قابل ستائش قرار دیا گیا تھا، جبکہ ٹینس کوچ جوڈی مرے نے اس فیصلے کو “زبردست” قرار دیا تھا۔

Facebook Comments Box