پاکستانی لڑکیاں ویٹ لفٹنگ کے لیے میدان میں آگئیں

خدیجہ ڈار اور شفق ڈار کے والد قومی ویٹ لفٹر رہ چکے ہیں، دونوں بہنوں کی نظریں ساؤتھ ایشین گیمز پر مرکوز۔

نوجوان پاکستانی ویٹ لفٹر بہنیں خدیجہ ڈار اور شفق ڈار اپنے والد کے نقشِ قدم پر چل کر اس شعبے میں اپنے کیریئر کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

سابق قومی ویٹ لفٹر وحید ڈار اب ٹرینر ہیں جن کی خواہش رہی کہ ان کی بیٹیاں کامیاب ویٹ لفٹر بنیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان اولمپکس میں کوئی تمغہ جیت پائے گا؟

وحید، 15 سالہ خدیجہ اور 16 سالہ شفق کو تربیت دینے میں کامیاب رہے اور دونوں نوجوان بہنیں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے پرعزم ہیں۔

ویٹ لفٹنگ ایسا کھیل ہے جس میں پاکستانی خواتین کی شمولیت بہت کم ہے، خدیجہ اور شفق کی ورزش دیکھ کر کھیلوں کے صحافی فیضان لاکھانی نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے لکھا ، "خدیجہ ڈار اور شفق ڈار ، سابق ویٹ لفٹر وحید ڈار کی بیٹیاں ، اپنے والد کی میراث کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔”

اگرچہ وحید ڈار کا کوئی بیٹا نہیں ہے لیکن ان کی بیٹیاں ان کے خواب کو آگے لے کر جا رہی ہیں اور وحید مستقبل میں ان کی کامیابی کے لیے پرامید اور پراعتماد ہیں۔

خدیجہ اور شفق کو ابتدائی طور پر ان کے والد نے تربیت دی تھی لیکن وحید کی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے وہ گوجرانوالہ میں سٹار ویٹ لفٹنگ اکیڈمی میں شامل ہوئیں۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں بہنوں کو اسی اکیڈمی میں تربیت دی جارہی ہے جہاں اولمپین طلحہ طالب کو تربیت دی گئی تھی۔

گوجرانوالہ کی ڈار سسٹرز جنوبی ایشین گیمز پر نظریں جمائے ہوئے ہیں اور دونوں پُر امید ہیں کہ وہ ملک کے لیے ویٹ لفٹنگ میں میڈل جیت سکتی ہیں۔ ایک ٹوئٹر صارف نے تبصرہ کیا کہ دونوں لڑکیوں کی لگن نے عامر خان کی فلم دنگل کی یاد دلا دی۔

Facebook Comments Box