بابر اعظم سے کوئی بدتمیزی نہیں کی، سچ بولتا رہوں گا، شعیب جٹ

پاکستان ٹیم کے میڈیا منیجر نے جان بوجھ کر میرا سوال نہیں لیا اور مجھےنظر انداز کیا،میں نے ان میڈیا منیجر کا نام لیکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہا، تو لوگوں نے اسے بابر اعظم سے بدتمیزی کا رنگ دیدیا، صحافی و اینکر کی وضاحت

اے آر وائی نیوز سے وابستہ اسپورٹس اینکر اور رپورٹر شعیب جٹ نے بابر اعظم سے بدتمیزی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے بابراعظم سے کوئی بدتمیزی نہیں کی ہے، سچ بولتا رہوں گا۔

شعیب جٹ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تفصیلات بیان کردی ۔

یہ بھی پڑھیے

بابر اعظم کا زیرعلاج پرستار کی عیادت کیلیے نجی اسپتال کادورہ

محمد رضوان اور آل راؤنڈر ندا ڈار بہترین ٹی 20 کھلاڑیوں کی فہر ست میں شامل

شعیب جٹ نے وضاحتی وڈیو بیان میں کہا کہ” پاکستان ٹیم کی پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد ایک واقعہ ہوا جسے سوشل میڈیا پر اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے میں نے بابراعظم سے بدتمیزی کی ہےحالانکہ میری  بابر اعظم سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی“۔

انہوں نے مزید کہاکہ”اس واقعے کے بعد سے طوفان بدتمیزی برپا ہے، مجھے گندی گندی گالیاں بھیجی جارہی ہیں،میرے تمام تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر میسجز اور وڈیوز پر تبصروں میں ٹیگ کرکے مجھے گالیاں دی جارہی ہیں،گھر سے اٹھانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،پٹائی کرنے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی باتیں  کی جارہی ہیں“۔

شعیب جٹ نے کہا کہ”میں ایسی چیزوں سے گھبرانے والا نہیں ہوں،میں سچ بولتا رہوں گا، اورمیرا گناہ شاید یہ ہے کہ میں سچ بول رہا ہوں کہ پاکستان بابراعظم کی کپتانی میں اس سال 7 ٹیسٹ میچز میں سے ایک بھی نہیں جیتا، آپ نہیں جیتے تو میں یہی کہوں گا کہ آپ نہیں جیتے “۔

شعیب جٹ نے مزید کہا کہ”یہ میرا حق ہے کہ میں پریس کانفرنس میں کوئی سوال پوچھنا چاہوں تو مجھے موقع دیا جائے،لیکن پاکستان ٹیم کے میڈیا منیجر نے جان بوجھ کر میرا سوال نہیں لیا اور مجھےنظر انداز کیا اور اس پر جب پریس کانفرنس ختم ہوئی تو میں نے ان میڈیا منیجر کا نام لیکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہا، جس کو لوگوں نے اس طرح سے جوڑ دیا کہ شاید میں  نے بابر اعظم سے بدتمیزی کی ہے“۔

اسپورٹس رپورٹر نے کہاکہ”مجھے صحافتی اقدار کا علم ہے،مجھے پتہ ہے کہ پریس کانفرنس میں  کس طرح بات کرنی چاہیے، یہ کوئی پہلی پریس کانفرنس نہیں تھی، میں نے درجنوں پریس کانفرنسز اور ورلڈکپ سمیت درجنوں بین الاقوامی مقابلوں میں رپورٹنگ کی ہے“۔

انہوں نے کہا کہ ایک ٹولہ سوچی سمجھی ساز ش کے تحت مجھے  نشانہ بنانے کی کوشش کررہا ہے،اور اس کا سلسلہ اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ گالیاں تو لوگ پہلے بھی بکتے تھے لیکن اب مجھے باقاعدہ طور پر دھمکیاں دی جارہی ہیں، میں پھر بول رہا ہوں کہ میں ڈرنے والا نہیں ہوں، سچ بولتا رہوں گا“۔

متعلقہ تحاریر