پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کا پرانا نظام بحال کردیا

پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے پی سی بی کے آئین 2014 کے تحت ڈسٹرکٹ، زونل کرکٹ ایسوسی ایشنز، ڈیپارٹمنٹس اور سروسز آرگنائزیشن کی بحالی کی منظوری دے دی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی ) نے ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کا پرانا نظام بحال کردیا۔

پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے پیر کو پی سی بی کے آئین 2014 کے تحت  ڈیپارٹمنٹس یاسروسز آرگنائزیشنز، ریجنز اور ڈسٹرکٹ یازونل کرکٹ ایسوسی ایشنز کی بحالی کے نوٹیفکیشن کی باضابطہ منظوری  دےدی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی20 ٹیم میں 135سے کم اسٹرائیک ریٹ والے کھلاڑی کی جگہ نہیں، شاہد آفریدی

بابر اعظم سے کوئی بدتمیزی نہیں کی، سچ بولتا رہوں گا، شعیب جٹ

نوٹیفیکیشن کے مطابق  اب 16 ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز قائداعظم ٹرافی میں حصہ لیں گی اور اگست میں شروع ہونے والے24-2023 سیزن کے دوران پیٹرنز ٹرافی میں 8 ڈیپارٹمنٹس حصہ لیں گے۔ ان ٹورنامنٹس کے علاوہ 24-2023 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے دوران ریجنل اور ڈیپارٹمنٹل سائیڈ کے لیے گریڈ II، 50 اوور اور 20 اوور کے ایونٹس بھی منعقد کیے جائیں گے، جن کی تفصیلات کا اعلان وقت پر کیا جائے گا۔

پی سی بی کے آئین 2019 میں ڈیپارٹمنٹس/سروسز آرگنائزیشن، ریجنز اور ڈسٹرکٹ/زونل کرکٹ ایسوسی ایشنز کو چھ کرکٹ اور 90 سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز میں  تبدیل کر دیا گیا تھا، جسے دسمبر 2022 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔

پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ جناب نجم سیٹھی کہا ہے کہ مجھے پی سی بی کے آئین 2014 کے تحت ڈیپارٹمنٹس/سروسز آرگنائزیشن، ریجنز اور ڈسٹرکٹ/زونل کرکٹ ایسوسی ایشنز کی باقاعدہ بحالی کی تصدیق کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ ہماری کوشش  اور اپنے تمام کرکٹرز کے لیے عزم ہے کہ ہم انہیں اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے یکساں اور منصفانہ مواقع فراہم کریں گے تاکہ وہ کھیل میں اپنا کیریئر بنا سکیں۔

انہوں نے کہاکہ  یہ تب ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہم اپنے کرکٹ کینوس کو وسعت دیں  جو کہ بدقسمتی سے 2019 میں کرکٹرز اور ٹیموں کی ایک قلیل تعداد تک محدود ہوگیاتھا۔ اس نقطہ نظر نے نہ صرف سیکڑوں کرکٹرز کی روزی روٹی کو متاثر کیابلکہ اس کے نتیجے میں ٹیلنٹ کی کمی بھی ہوئی اور ہم  ماضی کی طرح غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل کرکٹرز کو اجاگر کرنے اور تیار کرنے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی میدان میں ہماری قومی ٹیم کے معیار، کارکردگی اور درجہ بندی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم پچھلے چار سیزن کی غلط پالیسیوں کو کالعدم نہیں کر سکتے، لیکن ہم جو کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اپنے آزمائے ہوئے، جانچے  گئے اور کامیاب کرکٹ ماڈل اور ڈھانچے کی طرف تیزی سے لوٹ آئیں تاکہ کھیل اور کرکٹرز ترقی کر سکیں۔

انہوں نے کہاکہ  ہم اس حوالے سے اچھی پیش رفت کر رہے ہیں اور مزید اعلانات جو پاکستان کرکٹ اور ہمارے کرکٹرز کے بہترین مفاد میں ہیں مناسب وقت پر کیے جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی منیجنگ کمیٹی کے رکن شکیل شیخ نے پی سی بی کے ٹوئٹر ہینڈل پر جاری کردہ پریس ریلیز کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھاکہ بہت اچھی خبر!پاکستان کرکٹ میں انقلاب، پی سی بی میں جمہوریت کی واپسی، پی سی بی نے ڈیپارٹمنٹس/سروسز آرگنائزیشنز، 16 ریجنز، تقریباً 100 ڈسٹرکٹس/ زونز کو بحال کیا۔اب، پورا پاکستان کرکٹ برادری کھیلے گی۔

متعلقہ تحاریر