اشتہارات روایتی سے ڈجیٹل میڈیا کی طرف جائیں گے،فواد چوہدری

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے خطاب میں کہا کہ ’ٹیکنالوجی کی وجہ سے زرائع ابلاغ کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ حکومتوں اور سیاست دانوں کے لیے ایک چیلینج بن گیا کہ وہ اِس معلومات کی جنگ سے کیسے نمٹیں

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا کہناہے کہ حکومت رواں برس ڈجیٹل پالیسی متعارف کرانے والی ہے جس میں اشتہارات کے بجٹ کا بڑا حصہ ڈجیٹل میڈیا کے لیے بھی رکھا جائے گا۔

اُنہوں نے صحافیوں اور روایتی زرائع ابلاغ کے نمائندوں کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں کے دوران روایتی زرائع ابلاغ کے مقابلے میں ڈجیٹل میڈیا پر تشہیر زیادہ ہو جائے گی۔

وہ پاکستان فیڈرل یونیئن آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار کا موضوع تھا آزادی اظہار اور زرائع ابلاغ کے بحران کا حل۔

یہ بھی پڑھیے

کیا یہ الیکٹرانک اور ڈجیٹل میڈیا کے درمیان جنگ کا نکتہ آغاز ہے؟

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے خطاب میں کہا کہ ’ٹیکنالوجی کی وجہ سے زرائع ابلاغ کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ حکومتوں اور سیاست دانوں کے لیے ایک چیلینج بن گیا کہ وہ اِس معلومات کی جنگ سے کیسے نمٹیں اور اسی صورتحال کا پوری دنیا کو سامنا ہے۔‘

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان تنازع کی وجہ سے ہواوے کی 5جی ٹیکنالوجی متعارف نہیں ہو سکی اِس وجہ سے ساری صورتحال میں تعطل آیا ہے لیکن صحافیوں اور متعلقہ افراد کو تیار رہنا چاہیے کہ اب روایتی میڈیا سے اشتہارات کے تناظر میں توجہ اب ڈجیٹل میڈیا کی جانب مبزول ہوگی۔

حکومت پاکستان ایک نئی پالیسی متعارف کرانے والی ہے جس میں مختلف ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر اشتہارات کی تقسیم کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان کے ڈجیٹل میڈیا ونگ کے سربراہ عمران غزالی کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے متعارف کرائے جانے کے بعد وفاقی حکومت اپنی وزارت اطلاعات کے ذریعے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر اشتہارات دے سکے گی۔

وزارت اطلاعات نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ پاکستان میں 93 ملین انٹرنیٹ کے صارفین موجود ہیں جن میں 45 ملین سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ اِن اعدادو شمار کی بنیاد پر عوامی اشتہارات دیئے جانے کی پالیسی وضع کی گئی ہے۔

اِس پالیسی کا مقصد حکومت کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہے کہ وہ کس طرح پہلے سے موجود پرنٹ اور براڈکاسٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ مختلف چینلز اور ڈجیٹل میڈیا کو اشتہارات دے۔

ڈجیٹل میڈیا سے متعلق پالیسی کے متعارف کرائے جانے کے بعد نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر انفرادی طور پر معلوماتی مواد پیدا کرنے والے افراد اپنے آپ کو اُن اشتہارات کے لیے رجسٹر کراسکیں گے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں انسٹاگرام اور یوٹیوب بھی شامل ہیں۔

البتہ اب تک یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ اشتہارات دینے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے گا۔ آیا کہ وہ اُس چینل یا ویب سائٹ کے کلکس کی بنیا دپر ہوگا یا پھر سبسکرائبرز کی بنیاد پر اور کیا اُن اداروں کا رجسٹر ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اُن کے ٹیکس کے کھاتے بھی دیکھے جائیں گے کہ نہیں؟ یہ سب ابھی تک واضح نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر