کیا گوگل مصنوعی ذہانت میں انسانی جذبات بھی شامل کر رہا ہے؟

گوگل نے منصوبے سے متعلق خفیہ معلومات تیسرے فریق سے شیئر کرنے پر اپنے سافٹ ویئر انجینئر بلیک لیموئن کو معطل کردیا

گوگل کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ڈیولپمنٹ ٹیم کے سافٹ ویئر انجینئر بلیک لیموئن نے  کمپنی کے سرورز  کی مصنوعی ذہانت میں ”انسانی جذبات“ کا سامنا کرنے کا دعویٰ کردیا۔

گوگل نے منصوبے سے متعلق خفیہ معلومات تیسرے فریق سے شیئر کرنے پر بلیک لیموئن کو معطل کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ ختم کرنے کیلیے پروجیکٹ ویسٹا پر کام جاری

روس کا ڈیٹاقوانین کی خلاف ورزی پر گوگل اور ایپل پر مقدمہ کرنیکا اعلان

الفابیٹ انکارپوریشن یونٹ نے محقق کو پچھلے ہفتے کے اوائل میں اس دعوے پر تنخواہ  کے ساتھ چھٹی پربھیج دیا کہ اس نے ادارے کی رازداری کی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔

 اس نے”ممکن ہے جلد ہی مجھے مصنوعی ذہانت کی  اخلاقیات پر کام کرنے کی پاداش میں  نوکری سے نکال دیا  جائے“۔انہوں نے گوگل  کی مصنوعی ذہانت سے متعلق اخلاقیات کے گروپ کے سابقہ  رکن مارگریٹ مچل سے تعلق  جوڑنے کی کوشش کی  ہے جسے کمپنی نے خدشات پیدا کرنے کے بعد اسی انداز میں برخاست کر دیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ نے ہفتے کو لیموئن کا ایک انٹرویونشر کیا  جس میں اس نے کہا کہ اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گوگل  کے مصنوعی ذہانت  کے حامل جس روبوٹ سے اس نے بات چیت کی ہے وہ ایک شخص تھااور وہ سائنسدان کے بجائے ایک پادری  لگ رہا تھا ۔

انہوں نے کہاکہ زیر بحث مصنوعی ذہانت  کو LaMDA یا لینگویج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلی کیشن کہا جاتا ہے اور اسے چیٹ بوٹس بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو مختلف  شخصی انداز  اپنا کر انسانی صارفین کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں۔

لیموئن نے کہا کہ اس نے اسے ثابت کرنے کے لیے تجربات کرنے کی کوشش کی، لیکن جب اس نے اندرونی طور پر معاملہ اٹھایا تو کمپنی کے سینئر ایگزیکٹوز نے ان کی سرزنش کی۔

گوگل کے ترجمان برائن گیبریل نے اس حوالے سے استفسار پر کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق  وسیع تر کمیونٹی میں کچھ لوگ جذباتی یا عمومی مصنوعی ذہانت  کے طویل مدتی امکان پر غور کر رہے ہیں لیکن بات چیت کے  مروجہ غیر جذباتی ماڈلز کو انسانی شکل دے کر ایسا کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم بشمول ماہرین اخلاقیات اور تکنیکی ماہرین نے ہمارے  مصنوعی ذہانت کے اصولوں کے مطابق بلیک کے خدشات کا جائزہ لیا ہے اور انہیں مطلع کیا ہے کہ شواہد اس کے دعووں کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔

Facebook Comments Box