دنیا میں ہر انسان کا ہمشکل اور ڈی این اے بھی ایک جیسا ہوسکتا ہے، نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر انسان کا ہمشکل موجود ہے ،جس میں ڈی این اے بھی ایک جیساہوسکتا ہے۔دنیا میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھنے والے افرادایسے بھی ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں لیکن ان جینیاتی مماثلت پائی جاتی ہے۔

جن لوگوں میں یہ جینیاتی مماثلتیں تھیں، ان میں سے بہت سے لوگوں کا وزن, طرز زندگی کے عوامل جیسے تمباکو نوشی وغیرہ کی عادات اور تعلیمی سطح جیسے طرز عمل کی خصوصیات بھی یکساں تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جینیاتی تغیرات جسمانی ظاہری شکل سے متعلق ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ عادات اور رویے پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

موبائل فون صارفین کو مستقبل میں براہ راست سیٹلائٹ سے انٹرنیٹ تک رسائی ملے گی

ناسا نے زمین سے باہر پہلی بار کسی سیارے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ دریافت کرلی

سائنس دان طویل عرصے سے سوچ رہے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے جو کسی شخص کے ہم شکل  کو تخلیق کرتی ہے۔ یہ فطرت ہے یا پرورش؟ اسپین میں محققین کی ایک ٹیم نے یہ جاننے کی کوشش کی۔ ان کے نتائج منگل کو جرنل سیل رپورٹس میں شائع ہوئے۔

اسپین کے شہر بارسلونا میں جوزف کیریرس لیوکیمیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر مینیل اسٹیلر نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں جڑواں بچوں پر تحقیق پر کام کیا لیکن اس پروجیکٹ کے لیے وہ ان لوگوں میں دلچسپی رکھتے تھے جو ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن پچھلے 100 سالوں میں  ان کا  آپس میں کوئی خاندانی تعلق نہیں ہے۔

لہٰذا انہوں نے  سائنس کے بارے میں ایک سوال کا جواب حاصل کرنے کیلیے آرٹ کا سہارا لیا ۔ انہوں نے اور ان کے ساتھی مصنفین نے ایسے 32 جوڑوں کو بھرتی کیا جو کہ ایک تصویری پروجیکٹ”میں ایک جیسا نہیں ہوں “ کا حصہ تھے، جو کینیڈین فنکار فرانکوئس برونیل نے کیا تھا۔

محققین نے جوڑوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کو کہا۔ جوڑوں نے اپنی  روز مرہ زندگی کے بارے میں سوالنامے پُر کیے۔ سائنسدانوں نے ان کی تصاویر چہرہ شناخت کرنے والے3 مختلف پروگرامز سے گزاریں ۔

ان32 میں سے 16 جوڑوں کے اسکور ایک جیسے جڑواں بچوں سے ملتے جلتے تھے جن کی شناخت ایک ہی سافٹ ویئر کے ذریعے کی گئی۔ دوسرے 16 جوڑے شاید انسانی آنکھ کو ایک جیسے لگ رہے ہوں لیکن چہرہ  شناخت کرنے والے پروگراموں میں سے کسی ایک کے الیگورتھم نے بھی ایسا نہیں سوچا ۔

اس کے بعد محققین نے شرکا کے ڈی این اے پر گہری نظر ڈالی۔ چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر نے جن  جوڑوں کو ہمشکل قرار دیا ان  میں دوسرے 16 جوڑوں کے مقابلے بہت زیادہ مشترک  جین  پائے گئے۔

اسٹیلر نے کہا کہ ہم یہ دیکھنے کے قابل تھے کہ ایک جیسے دکھنے والے یہ انسان  درحقیقت  کئی ایک جیسی جینیاتی تغیرات  رکھتے  ہیں اور یہ  خصوصیت ان میں بہت عام ہے۔ اسٹیلر نے کہا کہ ان ایک جیسے دکھنے والے انسان کی جینیاتی تغیرات اس حد تک مماثلت رکھتے ہیں کہ ان کی ناک، آنکھ، منہ، ہونٹ اور یہاں تک کہ ہڈیوں کی ساخت بھی  ایک جیسی ہے اور یہ بنیادی نتیجہ تھا کہ جینیات ہی انہیں ایک جیسا بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملتے جلتے کوڈز ہیں، لیکن یہ محض اتفاقیہ ہے۔

اسٹیلر نے کہا کہ دنیا میں اب بھی بہت سارے لوگ ہیں جو ڈی این اے کی ایک جیسی  ترتیب کے ساتھ پیدا ہورہے ہیں، یہ ممکنہ طور پر ہمیشہ سچ تھا لیکن اب انٹرنیٹ کے ساتھ  انہیں تلاش کرنا بہت آسان ہے۔

اسٹیلر  نے کہا کہ جوڑوں کو قریب سے دیکھنے پر بہت سے دیگر عوامل مختلف پائے گئے ، اورانہیں عوامل کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے مشابہہ  تو لگتے ہیں لیکن ہمشکل نہیں لگتے ۔

جب سائنس دانوں نے ان جوڑوں کو قریب سے دیکھا تو ہم شکل نظر آنے والے افرادکے ایپی جینوم میں واضح فرق نظر آئے۔  ایپی جینیٹکس اس بات کا مطالعہ ہے کہ کس طرح ماحول اور طرز عمل کسی شخص کے جینز کے کام کرنے کے طریقے میں تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

 جب سائنسدانوں نے ان ہم شکل  جوڑوں کے مائیکرو بائیوم کو دیکھا تو وہ بھی مختلف تھے۔مائیکرو بائیوم، مائیکرو جنزم ہیں  جو انسانی جسم میں وائرس، بیکٹیریا اور فنگس  کے طو رپر پائے جاتے ہیں لیکن انسانی آنکھ سے دیکھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

مطالعہ کہتا ہے کہ  یہ نتائج نہ صرف ان جینیات کے بارے میں بصیرت فراہم کرتے ہیں جو ہمارے چہرے کا تعین کرتے ہیں بلکہ بشر پیمائی کی دیگرخصوصیات  یہاں تک کہ شخصیت کی خصوصیات کے بارے میں بھی  رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں ۔

متعلقہ تحاریر