ہوا میں اڑتے ہوئے ڈلیوری بوائے اب گھروں اور دفاتر میں سامان کی ترسیل کریں گے

سعودی نشریاتی ادارے العربیہ السعودیہ  کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ  پر شیئر کی گئی ایک وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ  ایک ڈلیوری  بوائے فضا میں اڑتے ہوئے ایک دفتر میں سامان کی  سپلائی کر رہا ہے، پرندہ نما ڈلیوری مین اڑان بھرنے کیلئے ایک انجن کا استعمال کرتے ہوئے آرڈر کی سپلائی کیلئے اڑ کر ایک ٹاور سے دوسرے ٹاور تک گامزن ہے

سعودی عرب میں آرڈرز ڈلیوری کیلئے فضائی سروسز کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی وڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے ایک ڈلیوری بوائے فضا میں اڑتے ہوئے ایک دفتر میں آرڈر ڈلیور کررہا ہے ۔

سعودی عرب کے نشریاتی ادارے العربیہ السعودیہ کے آفیشل ٹوئٹراکاؤنٹ پرشیئر کی گئی ایک وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ڈلیوری بوائے فضا میں اڑتے ہوئے ایک دفتر میں سامان کی  سپلائی کررہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

سلوواکیہ کی کمپنی نے اڑنے والی ٹیکسی بنالی

سوشل میڈیا پر گردش کرتی وڈیو میں اس شہری کے مقام کی واضح تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ پرندہ نما ڈلیوری مین اڑان بھرنے کیلئے ایک انجن کا استعمال کرتے ہوئے آرڈر کی سپلائی کیلئے اڑ کر ایک ٹاور سے دوسرے ٹاور تک گامزن ہے۔

سعودی عرب  میں فضا میں اڑکر آرڈرز کی سپلائی کرنے والے اس شخص کی ویڈیو سے قبل دنیا کے کچھ ریستورنٹس نے آرڈرز کیلئے ڈرون بھی متعارف کروائے تھے۔

 یہ ڈرون جی پی ایس اور ویڈیو کیمروں کےذریعے آرڈر دینے والے کو تلاش کرکے پندرہ منٹ کے لگ بھگ میں آرڈر مطلوبہ گاہک تک پہنچا سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق خوراک کی ترسیل کی عالمی صنعت ہر سال 10 فیصد کی شرح سے ترقی کررہی ہے، اس مارکیٹ کا حجم 2030 تک 365 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

متعلقہ تحاریر