بیان حلفی کیس: راناشمیم ،میرشکیل اور انصار عباسی پر فرد جرم آج عائد ہوگی

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کی سماعت کریں گے، عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کو پراسیکیوٹر مقرر کررکھا ہے

اسلام آباد ہائیکورٹ بیان حلفی کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، جیو اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان،ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی اور ایڈیٹر عامر غوری کیخلاف فرد جرم آج عائد کرے گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ  کے چیف جسٹس اطہر من اللہ رانا شمیم بیان حلفی کیس کی سماعت کریں گے۔عدالت نے آج سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم ، جیو اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن،ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی اور ایڈیٹر عامر غوری کو بھی طلب کررکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے
توہین عدالت کیس، مسلم لیگ (ن) اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریڈار پر آگئی

رانا شمیم ​​نے نواز شریف کے دفتر میں حلف نامے پر دستخط کیے، نیا انکشاف

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ  نے انگریزی اخباردی نیوزمیں رانا شمیم کا بیان حلفی شائع ہونے کے بعد توہین عدالت کی کاروائی شروع کی تھی۔گزشتہ سماعت میں عدالت نے ملزمان پر  فرد جرم عائد کر نے کی آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کو کیس کا پراسیکیوٹر مقرر کیا تھا۔

گزشتہ سماعت میں کیا ہوا تھا؟

گزشتہ سماعت کے دوران  چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ایک بیانیہ بنایا گیا ہے کہ یہ عدالت کمپرومائزڈ ہے،  رانا شمیم نے جو جواب داخل کیا اس میں سارا بوجھ انصارعباسی پرڈال دیا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوٹری پبلک سے بھی یہ ڈاکیومنٹ لیک ہوسکتا ہے، یہ معاملہ صرف سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثارسے متعلق نہیں، بیان حلفی نے اس کورٹ کو مشکوک بنا دیا ہے، ایک ایسابیانیہ بنا ہے جسے ہر کوئی سچ جان رہا ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا تھا کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے جس کے نتائج ہیں، اسی لیے کورٹ نے اتنے عدالتی معاونین بھی مقرر کیے ہیں، یا آپ ثابت کردیں کہ واقعی کورٹ کمپرومائزڈ تھی۔

رانا شمیم کے بیان حلفی کا پس منظر

یاد رہے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم نے لندن میں نوٹرائز کرائے گئے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا تھا کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

Facebook Comments Box