چین کا ایلین تہذیب کے سگنلز کا کھوج لگانے کا دعویٰ

مشتبہ سگنلز کسی قسم کی ریڈیو مداخلت بھی ہو سکتے ہیں  جس کی مزید تفتیش کی ضرورت ہے،چینی سائنسدان

چین نے ایلین تہذیب کے سگنلز کا کھوج لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سرکاری حمایت  یافتہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے کہا کہ اس کی دیوہیکل اسکائی آئی دوربین نے زمین سے باہر زندگی کے آثار کاکھوج لگالیا ہے، جس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اس دریافت کے بارے میں رپورٹ اور پوسٹس کو حذف کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انٹرنیٹ ایکسپلورر 27 سال بعدآج سے ہمیشہ کیلیے بند

کیا گوگل مصنوعی ذہانت میں انسانی جذبات بھی شامل کر رہا ہے؟

رپورٹ میں ایک ماورائے زمین تہذیب کی تلاش  پر مامور ٹیم کے چیف سائنسدان ژانگ ٹونجی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی اسکوپ”اسکائی آئی“ کے ذریعے دریافت کیے گئے  نیرو بینڈ برقی مقناطیسی سگنلز اس سے قبل  پکڑے گئے سگنلز سے مختلف ہیں اور ٹیم ان کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ژانگ نے مزید کہا کہ مشتبہ سگنلز کسی قسم کی ریڈیو مداخلت بھی ہو سکتے ہیں  جس کی مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔یہ واضح نہیں ہے کہ رپورٹ کو بظاہر چین کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کے سرکاری اخبار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی کی ویب سائٹ سے کیوں ہٹا دیا گیا، حالانکہ یہ خبر پہلے ہی سوشل نیٹ ورک ویبو پر ٹرینڈ کرنا شروع کر چکی تھی اورریاستی میڈیاسمیت  دیگر ذرائع ابلاغ نے اسے  شائع کیاتھا۔

چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژومیں واقع 500 میٹر قطر کی حامل  دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ  اسکائی آئی نے ستمبر 2020 میں باضابطہ طور پر بیرونی زندگی کی تلاش کا آغاز کیاتھا۔

 رپورٹ کے مطابق ژانگ نے کہا ہے کہ ٹیم نے 2019 میں جمع کیے گئے ڈیٹا پر کارروائی کرتے ہوئے 2020 میں مشکوک سگنلز کے دو حصوں کا پتہ لگایا  اور 2022 میں ایک اور مشکوک سگنل ایکسپوپلینٹ کے اہداف کے مشاہدے سے ملا۔ژانگ نے بتایا کہ چین کی اسکائی آئی کم تعدد والے ریڈیو بینڈ میں انتہائی حساس ہے اور اجنبی تہذیبوں کی تلاش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔

Facebook Comments Box