راج ناتھ سنگھ کی گلگت بلتستان پر قبضے کی ہرزہ سرائی پر حکومت پاکستان خاموش
کشمیر اور لداخ ترقی اور خوشحالی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہیں، یہ تو ابھی شروعات ہے۔ یہ مشن اسی وقت مکمل ہو گا جب گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے دوبارہ بھارت کے ساتھ مل جائیں گے، راج ناتھ سنگھ کا بڈگام میں تقریب سے خطاب

جموں وکشمیر پر بھارتی قبضے کو 75 سال مکمل ہونے کے موقع پربھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو بھارت میں ضم کرنے کے منصوبےکا اعلان کردیا ۔
دوسری جانب تحریک انصاف سے نمٹنے میں مصروف وفاقی حکومت،وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وفتر خارجہ کو اس بیان پر سانپ سونگھ گیا۔
یہ بھی پڑھیے
مودی کی مقبوضہ کشمیر میں عارضی مقیم بھارتی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت
بھارتی فوج نے 5 اگست 2019 سے اب تک 662 کشمیری شہید کیے
27اکتوبر 1947کو جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو 75 سال مکمل ہونے پر گزشتہ روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستانی قوم اور کشمیری عوام نے یوم سیاہ منایا۔
دوسری جانب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے ذریعے مودی حکومت کے شروع کردہ مشن کو مکمل کرنے کے لیے گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ بنایا جائے گا۔
راج ناتھ سنگھ نے بھارتی فوج کے مقبوضہ وادی پر قبضے کا جشن منانے کے ایک دن بعد مقبوضہ وادی کا دورہ کیا۔جموں و کشمیر کے ہندو حکمران نے 26 اکتوبر 1947 کو بھارت کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تھے تاہم پاکستان اس معاہدے کو تسلیم کرنے سےمسلسل انکار کرتا آیا ہے اور مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے باعث جموں و کشمیرکی ملکیت کا دعویدار ہے ۔
بھارت 1994 میں وزیراعظم نرسمہا راؤ کے دور حکومت میں بھارتی پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک قرارداد کی بنیاد پر گلگت بلتستان پر اپنا حق جتاتا ہےتاہم راج ناتھ سنگھ کا تازہ بیان 2 حالیہ واقعات کے بعد سامنے آیا ہے جس نے دلی سرکار کو جھنجھوڑ دیا ہے ۔
بھارتی کی بے چینی کا پہلا سبب حال ہی میں اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا آزاد کشمیر کا غیر معمولی دورہ تھاجبکہ اسی روز جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیرباک نے تنازعہ کشمیر پر اپنے ملک کی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
بھارت نے امریکا اور جرمنی کے پے در پے اقدامات پر فوری اور سخت ردعمل دیا تھا ۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ٹویٹر پر بلوم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ” آزاد جموں و کشمیر کے اپنے پہلے سفرپر جانامیرے لیے اعزاز کی بات ہے“۔
ایک دن قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ایٹمی جنگ کے خطرات پر مشورہ دینے والے راج ناتھ سنگھ جنوبی ایشیائی ایٹمی دشمن کے حوالے سے قدرے کم پریشان نظر آئے ۔
راج ناتھ سنگھ نےمقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کے 75 سال مکمل ہونے پر بڈگام میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی کہ ”کشمیر اور لداخ (5اگست 2019 کے بعد) ترقی اور خوشحالی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہیں، یہ تو ابھی شروعات ہے۔ یہ مشن اسی وقت مکمل ہو گا جب گلگت بلتستان اورپاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے دوبارہ بھارت کے ساتھ مل جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ دن دور نہیں جب 1947 کے مہاجرین کو انصاف فراہم کیا جائے گا اور انہیں ان کی زمینیں اور گھر واپس ملیں گے ۔









