بہاولپور کا نور محل نوابوں کے عہد کی یادگار

نور محل تقریباً 150 سال پرانے ان محلات میں سے ایک ہے جو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے دوران تعمیر ہوئے۔

سابقہ ریاست بہاولپور کے نوابوں کے پاس بہت دولت تھی۔ بہاوپور کے نوابوں نے اپنے علاقے کی ترقی کے لیے دل کھول کر اسے استعمال کیا اور ساتھ ساتھ اپنے شایانِ شان محلات بھی تعمیر کروائے جن میں نور محل بھی شامل ہے۔

ریاست تو نہیں رہی مگر اس کی کہانی سنانے کے لیے نوابوں کی تعمیر کردہ عمارتیں ضرور موجود ہیں۔ یہ ایک شاندار کہانی ہے جو سننے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ جب آپ بہاولپور کا رُخ کریں تو آپ کو صرف ’دیکھنے والی آنکھ‘ چاہیے اور کچھ نہیں۔ جیسے کہ نورمحل بہاولپور کے تاریخی دروازے، وکٹوریا اسپتال، لائبریری، میوزیم، ڈرنگ اسٹیڈیم، صادق گڑھ پیلس، قلعہ دراوڑ اور بہت کچھ جو کہ تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں۔

جبکہ بہاولپور کا نور محل دلکش ہونے کے ساتھ ساتھ نوابوں کے ریاستی دور کا ایک عظیم منظر بھی پیش کرتا ہے۔ وسیع و عریض سبزہ زاروں میں  واقع یہ عمارت مغربی اور اسلامی طرزِ تعمیر کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ اس کی آب و تاب اور طمطراق دور ہی سے آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

نور محل کی تاریخ

نور محل تقریباً 150 سال پرانے ان بہت سے محلات میں سے ایک ہے جو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے دوران بہاولپور میں تعمیر ہوئے۔ باقی محلات شاید اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں مگر نور محل میں ضرور کچھ مختلف ہے۔

نور محل کس نے کس کے لیے بنایا؟

اس سوال کے جواب میں بہت سی کہانیاں اور قصے مشہور ہیں۔ جو سب سے زیادہ سننے کو ملا وہ کچھ یوں تھا۔

‘1872 میں بہاولپور ریاست کے نواب صادق محمد خان رابع کی رہائش کے لیے بستی ملوک شاہ کے قریب ایک محل تعمیر ہوا جس کا نام نور محل رکھا گیا۔ یوں کہہ لیں کہ نور محل نواب صادق محمد خان عباسی چہارم نے سنہ 1872 میں تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے یہ محل اپنی بیگم کے لیے بنوایا تھا جو تین سال کے عرصے میں مکمل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ان ہی کے نام سے منسوب ہے۔ ان کی بیگم نے اس محل میں صرف ایک رات قیام کیا کیونکہ انہیں یہ بات پسند نہیں آئی کہ محل کے قریب ہی ایک قبرستان موجود تھا۔ نور محل کے حوالے سے یہی کہانی آپ کو انٹرنیٹ پر بھی بےشمار جگہ ملے گی۔’

نور محل

جبکہ اس محل سے متعلق دوسری رائے یہ ہے کہ ‘نواب صاحب نے یہ محل مہمان داری کے لیے بنوایا تھا جہاں مہمان آکر قیام کرتے تھے۔ مگر بعض لوگ دونوں آراء کو درست کہتے ہیں کہ یہ محل واقعتا بنایا تو بیگم نور کے لیے ہی تھا مگر ان کے انکار کے بعد اس کو عوامی کردیا گیا۔’

نور محل کس طرز پر تعمیر کیا گیا اور اس میں ایسا کیا خاص ہے؟

یہ انتہائی خوبصورت محل اپنی تعمیر کے وقت بھی فنِ تعمیر کا ایک نادر شاہکار تھا۔

نور محل کا طرزِ تعمیر اطالوی ہے اور یہ نواب صادق محمد خان چہارم کے دور میں بنا یا گیا تھا۔ نواب صادق محمد خان چہارم خوبصورت عمارات کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور اس حوالے سے انہیں ‘شان جہان بہاولپور’ بھی کہا جاتا ہے۔

نور محل کی عمارت کا نقشہ ریاست کے انجینئر مسٹر ہینن نے تیار کیا تھا اور ان ہی کی نگرانی میں 1872 میں محل پر کام شروع ہوا جس کی تعمیر 1875 میں مکمل ہوئی۔ محل 44 ہزار 600 مربع فٹ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کے حوالے سے مختلف کہانیاں مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نواب صاحب نے یہ محل ملکہ عالیہ کے لیے تعمیر کروایا تھا مگر ملکہ نے یہاں محض ایک رات قیام کیا۔ قیام کے دوران انہیں بالکونی سے قبرستان ملوک شاہ نظر آیا تو انہوں نے محل میں مزید رہنے سے انکار کردیا۔

نور محل اطالوی اور اسلامی فنِ تعمیر کا دلچسپ اور خوبصورت مرکب ہے۔ یہ محل بنیادی طور پر ایک مستطیل نما تین منزلہ عمارت ہے جس میں درمیانی ہال اور شرقی غربی کمروں کے علاوہ چاروں کونوں پر چار کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ان چاروں کمروں کے اوپر چار کمرے اسی لمبائی اور چوڑائی کے ساتھ بنے ہوئے ہیں جن کی چھتیں برج نما ہیں اور چو گوشیہ ہیں۔ یہ چو گوشیہ برج ایک پانچویں برج کے ساتھ ملتے ہیں جو سائز میں سب سے بڑا ہے۔

بہاولپور کے اس نور محل کی تعمیر میں مغربی اور اسلامی دونوں طرز کی تعمیرات کا امتزاج ہر جگہ نظر آتا ہے۔ آپ جیسے ہی اس میں داخل ہوں اور نیچے فرش پر دیکھیں اور سر اٹھا کر چھت کو دیکھیں۔ ان میں بنے نقوش ان دونوں طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے نظر آئیں گے۔

نور محل اب کس کے پاس ہے؟

پاکستان بننے کے بعد نور محل کچھ عرصہ اوقاف کے پاس رہا اور پھر پاکستانی فوج کو لیز پر دے دیا گیا جس نے بعد ازاں اس کو خرید لیا۔ ان دنوں یہ فوج کے زیرِ انتظام ہے۔

نور محل

اس کی عمارت میں ریاست کی تاریخ اور خصوصاً نواب سر صادق محمد خان پنجم سے منسوب چیزیں رکھی گئی ہیں۔ آپ ایک معمولی سے رقم یعنی 150 روپے کا ٹکٹ خرید کر اس کی سیر کر سکتے ہیں۔ غیر تصدیق شدہ اطلاع کے مطابق بہاولپور کا یہ نور محل آرمی نے اس وقت تین یا چار کروڑ روپے میں خریدا تھا۔

روشنی کا انتظام

محل کی تعمیر اس طرح کی گئی ہے کہ اس میں سورج کی روشنی کے داخل ہونے کے لیے خاص طور پر راستے رکھے گئے ہیں۔ محل کے مرکزی ہال میں نواب کے بیٹھنے کے دربار کے عین اوپر شیشوں کی دیوار نظر آتی ہے۔

اس میں شیشوں کا استعمال اس طرح کیا گیا ہے کہ عمارت کے ہر کونے میں قدرتی روشنی رہتی ہے۔ اس کا اندازہ اس شیشے سے لگایا جا سکتا ہے جو نواب کے دربار کے عقب میں نصب ہے۔

ان دنوں یہاں ہفتے کے آخری دو روز لائٹ شو منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ منظر قابلِ دید ہوتا ہے جو نور محل کے حقیقی معنی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں محل کو باہر سے لائٹوں سے روشن کیا جاتا ہے اور اس کی گنبدوں پر نوابین کی تصاویر بھی دکھائی جاتی ہیں۔

نور محل

نور محل مہمان خانے میں کون کون رہ چکا ہے؟

اس وقت کی بڑی بڑی ریاستوں کے نواب نور محل کے مہمان خانے میں قیام کر چکے ہیں۔ بعد میں سابق وزیرِاعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ فاطمہ جناح جیسی شخصیات بھی یہاں ٹھہری ہیں۔

اس مہمان خانے میں اس وقت کے شاہِ ایران کے علاوہ راج برطانیہ کے وائسرائے، گورنر پنجاب اور پاکستان کے سابق صدر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایوب خان بھی ٹھہر چکے ہیں۔

نوابوں کے دور میں بھی نور محل میں ریاستی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جاتی تھیں۔ ریاست بہاولپور کے آخری تین نواب اسی ہال کے اندر تخت نشین ہوئے تھے یعنی اس میں ان کی دستاربندی کی گئی تھی۔

جرمنی سے آیا پیانو اور حج کے لیے استعمال کی گئی گاڑی

موجودہ نور محل کی عمارت میں ایک پیانو بھی رکھا گیا ہے۔ اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ نواب صادق محمد خان چہارم (جنہیں صبحِ صادق کا لقب بھی دیا گیا تھا) نے جرمنی سے سنہ 1875 میں درآمد کیا اور اپنی بیگم کو تحفے میں دیا۔ یہ پیانو درحقیقت نواب صادق محمد خان پنجم کا تھا جو اسے بجانا بھی جانتے تھے۔

نواب صادق محمد خان پنجم سنہ 1935 میں حج کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔ اس سفر کے دوران انہوں نے جو گاڑی استعمال کی وہ بھی آپ کو محل کے باہر کھڑی ملے گی۔

نور محل میں دیکھنے کے لیے کیا کیا موجود ہے؟

مرکزی ہال کے دونوں اطراف رہائشی کمرے تھے جن میں زیادہ تر اب مقفل ہیں۔ ایک کمرہ اور اس میں لگا بستر اور دیگر فرنیچر سیاحوں کے لیے کھولا گیا ہے۔ محل کے مختلف دالانوں میں ریاست بہاولپور کے دور کی اشیاء، لباس اور ہتھیار وغیرہ رکھے گئے ہیں۔

محل کا فرنیچر برطانیہ، اٹلی، فرانس اور جرمنی وغیرہ سے درآمد کیا گیا تھا۔ یہ فرنیچر آپ کو مرکزی ہال میں بھی ملے گا اور بیڈ روم میں بھی۔ آج بھی اس کی چمک دمک قائم ہے۔

دیواروں پر تصویروں کی مدد سے نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم اور ان کے دور کی تاریخ آویزاں ہے۔ محل میں ایک بلیئرڈ روم بھی موجود ہے جس میں اسنوکر کی میز اور ضروری لوازمات آج بھی موجود ہیں۔ اس کمرے کا دروازے سامنے برآمدے میں کھلتا ہے۔

شام کو غروب ہوتے سورج کی روشنی برآمدے کی محرابوں سے چھنتی ہوئی محل میں داخل ہوتی ہے۔ صبح سے لے کر شام اور پھر چاند کی راتوں میں بھی نور محل میں روشنی ضرور رہتی ہے۔

Facebook Comments