نماز نہ پڑھنے، بغیراجازت گھر سے نکلنے، بناؤ سنگھار نہ کرنے پر بیوی کو مارنے کی اجازت ہے،افغان عالم

مرد اپنی بیوی کو صرف کچھ باتوں پر مار سکتا ہے ہر وقت مارنے کی اجازت نہیں  ہے، افغان طالبان کے عالم کو اپنے خیالات پر تنقید کاسامنا

 افغان طالبان کے عالم دین نے کہا ہے کہ نماز نہ پڑھنے، شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے اور شوہر کی پسند کا لباس نہ پہننے پر بیوی کو مارنے کی اجازت ہے۔

افغان عالم دین کی فارسی زبان میں افغانستان انٹرنیشنل چینل سے  گفتگو کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس پر افغانستان میں برسراقتدار طالبان کو تنقیدکانشانہ بنایاجارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برطانوی شہزادہ ہیری افغان شہریوں کو قتل کرکے جنگی جرائم کا ملزم بن گیا

افغانستان میں امریکی جنگ ہماری جنگ نہیں تھی، حامد کرزئی

برطانیہ کے وزیر مہاجرین  کی سابقہ مشیر شبنم نسیمی نے افغان طالبان کے رہنما کی وڈیو شیئر کی ہے ۔  شبنم نسیمی کے مطابق  طالبان کے ایک عالم نے کہا ہے کہ مرد کو عورت کو مارنے کی اجازت ہے ، اگر وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلتی ہے، اگر وہ اپنے شوہر کی مرضی کے  کپڑے پہننے پر راضی نہیں ہوتی ہے اور اگر وہ نماز نہیں پڑھتی۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں خواتین کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

سابق برطانوی خاتون مشیر کے دعوے کے برعکس وڈیو میں افغان عالم کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ مرد اپنی بیوی کو صرف کچھ باتوں پر مار سکتا ہے ہر وقت مارنے کی اجازت نہیں  ہے، اول  اس پر کہ شوہر کسی جگہ جانے سے منع کرے اور بیوی وہاں چلی جائے، دوم یہ کہ شوہر بناؤ سنگھار کی فرمائش کرے اور بیوی اس کی بات نہ مانے اور سوم یہ کہ بیوی نماز نہ پڑھے اور شریعت کی پیروی کا نہ کرے تو شوہر اس مار سکتا ہے اس کے علاوہ بیوی پر ہاتھ اٹھانا غیرشرعی ہے ۔

متعلقہ تحاریر