افغان حکومت نے رمضان میں گانے چلانے پر خواتین کا واحد ریڈیو اسٹیشن بند کردیا
اگر یہ ریڈیوا سٹیشن امارت اسلامیہ افغانستان کی پالیسی کو قبول کرتا ہے اور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ یہ دوبارہ ایسا کام نہیں کرے گا، تو ہم اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دیں گے، افغان حکومت

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے رمضان میں گانے نشر کرنے پر خواتین کےزیرانتظام ملک کے واحد ریڈیو اسٹیشن کو بند کر دیا۔
ریڈیو اسٹیشن’صدائے بانواں‘ 10 سال قبل شمال مشرقی افغانستان میں شروع کیا گیا تھا اور یہ ملک کا واحد ریڈیو اسٹیشن تھا جسے خواتین چلاتی تھیں۔ اس کے 8 رکنی عملے میں 6 خواتین شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
طالبان نے شریعت بدل ڈالی؛ طلاق یافتہ خواتین کو سابق شوہروں کے پاس جانے کا حکم
ہم پہ الزام نہ لگائیں اپنے اندر خرابی تلاش کریں، افغان وزیر خارجہ کا پاکستان کو مشورہ
صوبہ بدخشاں میں اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر معیز الدین احمدی نے کہا کہ ریڈیو اسٹیشن نے مقدس مہینے کے دوران متعدد بار گانے نشر کرکے امارت اسلامیہ افغانستان کے قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کی۔
معیز الدین احمدی نے یہ بھی کہا کہ” اگر یہ ریڈیوا سٹیشن امارت اسلامیہ افغانستان کی پالیسی کو قبول کرتا ہے اور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ یہ دوبارہ ایسا کام نہیں کرے گا، تو ہم اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دیں گے“۔
تاہم اسٹیشن چیف ناجیہ سوروش نے ایسی کسی بھی خلاف ورزی کی تردید کی اور اسے اسٹیشن بند کرنے کا بہانہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ”طالبان نے ہمیں بتایا کہ آپ نے موسیقی نشر کی ہےلیکن ہم نے کسی قسم کی موسیقی نشر نہیں کی“۔









