مقبوضہ کشمیر میں پیپرماشی زوال کا شکار، ایوارڈ یافتہ فنکار رکشہ چلانے پر مجبور

پیپرماشی ایک محنت طلب اور نازک دستکاری ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 14ویں صدی میں فارسی کاریگروں کے ساتھ کشمیر پہنچی تھی

مقبوضہ کشمیر میں  پیپر ماشی  کا فن زوال پذیر ہورہا ہے اور فن کارگزربسر کرنے کیلیے متبادل پیشے اختیار کرنے لگے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے  کےمطابق  پیپرماشی کے فن میں قومی ایوارڈیافتہ کشمیری فنکار سید اعجاز  اہل خانہ کا پیٹ پالنے کیلیے آٹورکشہ چلانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سابق گورنر مقبوضہ کشمیر ستیہ پال نے پلوامہ حملے پر مودی کا پردہ فاش کردیا

مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر کے خطرناک انکشافات، پاکستانی ایوانوں میں قبرستان کی خاموشی

پیپرماشی ایک محنت طلب اور نازک دستکاری ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 14ویں صدی میں فارسی کاریگروں کے ساتھ کشمیر پہنچی تھی۔ اس کے بعد سے یہ اس خطے کی ایک خاصیت بن گئی ہے، اس کے فنکار ایوارڈز اور تعریفیں حاصل کرتے ہیں۔

لیکن حالیہ دہائیوں میں مقبوضہ  وادی میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے بیچ یہ فن آہستہ آہستہ اپنی کشش کھو تاجارہا ہے ۔ فن کی بقا  کی جدوجہد کرنے والے کاریگروں نے اپنے گزربسر کیلیے  متبادل پیشے اختیار کرنا شروع کردیے ہیں۔ کئی فنکاراپنے گھروں کا چولہا جلائے رکھنے کیلیے رکشہ چلانے، سیکیورٹی گارڈ اور سیلز مین کی نوکری کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔

پیپر ماشی کے فن سے وابستہ فنکاروں کا کہنا ہے کہ  ان کے بچے اب اپنی قدیم خاندانی میراث کو  جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے  ۔ پرانے کاریگروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنی اس پسندیدہ دستکاری کو آہستہ آہستہ معدوم ہوتے ہوئے دیکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔

پیپر ماشی میں خدمات کے باعث ایک قومی اور 2 ریاستی ایوارڈ ز جیتنے والے سید اعجاز کہتے ہیں کہ پیپر ماشی کے شعبے میں نہیں آرہے اور پرانے لوگ دیگر پیسے اختیار کررہے ہیں ، کوئی گھروں میں رنگ کررہا ہے، کوئی کپڑے بیچ رہا ہے اور کوئی اے ٹی ایم گارڈ بن گیا ہے۔وہ کہتے ہیں یہ فن اب  پانچ دس سال سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ رنگ کرنے والا یومیہ 600 روپے کماتا ہے  اور پیپر ماشی سے یومیہ 100 سے 200 روپے کمائی ہوتی ہے، انہوں نے کہاکہ وہ پیپزماشی سے وہ کبھی ڈیڑھ اور کبھی 200 روپے کماتے ہیں جبکہ رکشہ چلا کر کبھی 300 اور کبھی 400 کمالیتے ہیں ، تو کیا رکشہ چلانا پیپر ماشی سے بہتر نہیں ہے؟

قومی ایوارڈ یافتہ فنکار سید مقبول جو اس پیشے سے وابستہ خاندان کے آخری فرد ہیں ، کہتے ہیں کہ جب سے عسکریت پسندی شروع ہوئی ہے ،فن کا شعبہ زوال پذیر ہے،پیپر ماشی کا  فن تو دفن ہوجائے گا اس کا نام و نشان نہیں رہے گا جس طرح  قالین بافی ختم ہوگئی ہے۔

سید اعجاز کہتے ہیں کہ”جب میں پیپرماشی کے ڈبوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے، یہ میری بچپن کی محبت ہے جو دل سے جد ا ہوگئی ہے“۔

متعلقہ تحاریر