شامی صدر بشار الاسد کی عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کیلیے 12 سال بعد جدہ آمد

سعودی حکام نے شامی صدر کا پرتپاک استقبال کیا، مصر، بحرین اور فلسطین کے سربراہان مملکت بھی جدہ پہنچ گئے، عرب لیگ نے رواں ماہ ہی شام کی رکنیت بحال کی تھی۔

شام کے صدر بشار الاسد کا بارہ سال بعد عرب لیگ  کے اجلاس میں شرکت کے لیے جدہ پہنچ گئے۔سعودی قیادت نےشامی صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔

عرب لیگ نے 12 سالہ طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد رواں ماہ  ہی شام کی رکنیت بحال کی تھی جس کے بعد سعودی عرب نے شامی صدر کو عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

شام کی 10 سال بعد عرب لیگ میں واپسی، رکن ممالک نے رکنیت بحال کردی

ترکیہ کے صدارتی الیکشن میں اردوان کو برتری، مطلوبہ 50 فیصد ووٹ نہ لے سکے

عرب میڈیا کے مطابق عرب لیگ کے بتیسویں اجلاس میں شرکت کیلئے ایک دہائی بعد سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچنے پر سعودی حکام نے صدر بشار الاسد کا پرتپاک استقبال کیا۔

دریں اثنا عرب  لیگ کے اجلاس میں شرکت  کیلیے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ اور فلسطین کے صدر محمود عباس بھی جدہ پہنچ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں 15مارچ 2011 کو  شروع  ہونے والی خانہ جنگی میں عوام اور مظاہرین سے ناروا سلوک کے خلاف عرب لیگ نے  2012 میں شام  کی رکنیت معطل کردی تھی  اور بیشتر عرب ممالک نے شام سے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ واضح رہے کہ بشارالاسد نے آخری مرتبہ2010 میں لیبیا میں منعقدہ عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

متعلقہ تحاریر