نیوزی لینڈ میں حمل ضائع ہونے پر چھٹیوں کا بل منظور
نیوزی لینڈ دنیا کا دوسرا ملک ہے جس نے اس بل کی منظوری دی ہے اس سے قبل انڈیا میں یہ قانون نافذ ہوچکا ہے۔
نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے حمل ضائع ہونے یا مردہ بچے کی پیدائش پر والدین کے لیے چھٹیوں کا بل منظور کردیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی تیسری سابق خاتون وزیراعظم اور رکن اسمبلی ’جینی اینڈرسن‘ نے اسمبلی میں بل پیش کیا تھا جسے پارلیمنٹ نے منظور کر لیا ہے۔
نیوزی لینڈ دنیا کا دوسرا ملک ہے جس نے اس بل کی منظوری دی ہے اس سے قبل انڈیا میں یہ قانون نافذ ہوچکا ہے۔
اس بل پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے دستخط ہونا باقی ہیں۔ جس کے بعد نیوزی لینڈ میں یہ قانون نافذ العمل ہو جائے گا۔ نیوزی لینڈ میں بچوں کی پیدائش پر والدین کی چھٹیوں کا قانون پہلے سے ہی نافذ ہے اور اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔
اس بل کے مطابق والدین کو کم از کم 3 دن کی چھٹیاں اور ان کو تنخواہ بھی مکمل دی جائے گی۔ نیوزی لینڈ میں ہر چار میں سے ایک خاتون کا حمل ضائع ہوجاتا ہے۔ حمل ضائع ہونے یا مردہ بچے کی پیدائش پر والدین خاص کر ماں کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔
جینی اینڈرسن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ’چھٹیاں والدین کو اس صدمے سے نکلنے میں مددگار ثابت ہو گی۔‘
Final reading of my Bereavement Leave for Miscarriage Bill. This is a Bill about workers’ rights and fairness. I hope it gives people time to grieve and promotes greater openness about miscarriage. We should not be fearful of our bodies. pic.twitter.com/dwUWINVjLm
— Ginny Andersen (@ginnyandersen) March 24, 2021
یہ بھی پڑھیے
نیوزی لینڈ اور پاکستان کے وزرائے اعظم میں کیا فرق ہے؟
ایک سال قبل نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں ایک بل پاس ہوا تھا جس کے مطابق خواتین 20 ہفتے کے حمل کو ضائع کرسکتی ہیں۔ نیوزی لینڈ دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے خواتین کو 1893 میں پہلی بار ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دیا تھا۔









