سوشل میڈیا سے تحریک آزادی کشمیر کو دوام بخشنے والے شہید برہان وانی

8 جولائی 2016 کو انڈین فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں گولیاں مار کر برہان مظفر وانی کو شہید کردیا تھا۔

سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو دوام بخشنے والے برہان مظفر وانی کو 8 جولائی 2016 میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے کوگر ناگ میں انڈین فوج نے گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ تاہم شہید برہان مظفر وانی آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ انڈین فوج نے جدید ہتھیاروں سے طویل ترین محاصرے کے بعد انہیں شہید کیا تھا۔ ان کی آج پانچویں برسی منائی جارہی ہے۔

حزب المجاھدین کے سابق کمانڈر برہان مظفر وانی 19 ستمبر 1994 کو مظفر وانی اور میمونہ وانی کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ برہان مظفر وانی نے انڈین فوج کے خلاف اپنی جدوجہد کا آغاز سوشل میڈیا سے کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ملالہ نے افغانستان میں امن کی تعریف بیان کردی

برہان مظفر وانی نے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فوج کے مظالم کو بیرونی دنیا تک پہنچایا تھا۔ 2010 میں برہان مظفر وانی نے عسکری زندگی کا آغاز کرتے ہوئے انڈین فوج کے خلاف نبردآزما حزب المجاہدین کے پلیٹ فارم سے کیا۔

عسکری تربیت حاصل کرنے کے باوجود برہان مظفر وانی نے بندوق اٹھانے سے زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال کو ترجیح دی۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر برہان وانی اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرکے نوجوانوں کو تحریک آزادی کشمیر میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔

برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انڈین فوج کے خلاف ایک نہ رکنے والی تحریک کا آغاز ہوا جس میں اب تک سیکڑوں نوجوان جام شہادت نوش فرما چکے ہیں۔

برہان مظفر وانی حزب المجاہدین کے بڑے کمانڈر قاسم عبدالرحمان شہید کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تھا۔ برہان وانی قاسم عبدالرحمان کو اپنا استاد مانتے تھے۔

برہان مظفر وانی کے بڑے بھائی خالد مظفر وانی کو انڈین فورسز نے 2010 میں اس بنا پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ کشمیری نوجوانوں کو حریت کی ترغیت دیتے تھے، تاہم 14 اپریل 2015 جو ایک جعلی مقابلے میں انڈین فوج نے انہیں گولی مار کر شہید کردیا تھا۔

خالد مظفر وانی کی شہادت کے بعد 2015 میں حزب المجاہدین کے 21 سالہ کمانڈر برہان مظفر وانی نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں وہ کشمیری نوجوانوں کو انڈین فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کی دعوت دے رہے تھے۔ تاہم یہ پہلا موقع تھا جب کسی عسکری تنظیم کی جانب سے نوجوانوں کو مسلح جدوجہد کی ترغیت دی گئی تھی۔

ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ انڈین فوج جو جدید ترین اسلحے سے لیس ہے اور دوسری جانب مٹھی بھر مجاہدین ہیں۔ مگر انڈین فوج کئی عشروں پر محیط جدوجہد آزادی کو آج بھی دبانے میں ناکام ہے۔ ہندو مائیں غم سے مر جاتی ہیں جب انہیں پتا چلتا ہے کہ ان کے بیٹے کی پوسٹنگ مقبوضہ کشمیر میں ہو گئی مگر جب ایک کشمیری کا ایک بیٹا شہید ہوتا تو وہ اپنے دوسرے بیٹے کو بندوق دے کر کہتی ہے جا بیٹا اپنے رب کے فرمان کے مطابق اپنے بھائی کا بدلہ لینے کے لیے۔

Facebook Comments Box