امن کے نام پر جنگ،بھارت کے مذموم ارادے افشاں

سفارتکاروں کی واپسی کے لیے بھیجے گئے بھارتی طیاروں میں افغان فوج کو اسلحہ پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے بعد بھارت نے افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں اپنا قونصل خانہ بند کردیا ہے۔ بھارت کی جانب سے سفارتکاروں کی واپسی کے لیے بھیجے گئے طیاروں میں افغان فوج کے لیے بڑی تعداد میں اسلحہ پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جس سے افغان امن عمل اور خطے کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

افغانستان سے 2 دہائیوں کے بعد امریکی سیکیورٹی اہلکاروں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی اہلکاروں کی مکمل واپسی سے قبل ہی افغانستان میں طالبان کا اثرو رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ افغان طالبان کی طرف سے 85 فیصد اراضی پر قبضے کا دعویٰ کرنے کے بعد بھارت نے قندھار میں اپنے قونصل خانے کو بند کردیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں شدید لڑائی کے باعث انہوں نے قندھار میں قونصل خانے کو عارضی طور پر بند کردیا ہے اورعملے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرانے جارہی ہے؟

بھارتی حکومت نے گزشتہ روز اپنے 50 سفارتکاروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی واپسی کے لیے فضائیہ کے طیارے کابل روانہ کیے تھے جس میں افغان حکومت کے لیے بڑی تعداد میں اسلحہ بھیجے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کے بجائے حالات جنگ کی طرف لے جانے کی کوششں کررہا ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف بھارت طالبان سے مذاکرات کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب افغانستان کی حکومت کو اسلحہ بھی مہیا کررہا ہے جس سے افغانستان میں خانہ جنگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف متعدد کارروائیاں کرچکا ہے اور اس سلسلے میں بھارت نے افغانستان میں بڑی سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے۔ اب طالبان کی پیش قدمی بڑھنے پر بھارت افغانستان میں امن کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے جس سے افغانستان میں امن کے بجائے حالات جنگ کی طرف جاسکتے ہیں۔

Facebook Comments Box