خواتین ممبران پر مشتمل اسپین کی کابینہ مرکز نگاہ

22 ارکان کی کابینہ میں 14 خواتین شامل ہیں۔

اسپین میں سیاسی اور معاشی بحران میں اضافے کے بعد وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے بڑی تعداد میں خواتین ممبرز کو اہم وزارتیں سونپ دی ہیں۔ سوشلسٹ پارٹی کے اس فیصلے کو ملک میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔

یورپی ملک اسپین کرونا وائرس کے بعد معاشی بحران کا شکار ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی تحریک کے بعد سیاسی بحران بھی اپنے عروج پر ہے۔ ملکی مسائل کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں خواتین ممبرز کی تعداد کو بڑھا دیا ہے۔ 22 ارکان پر مشتمل کابینہ میں 14 خواتین شامل ہیں۔ کابینہ میں 63 فیصد خواتین کی شمولیت سے وزرا کی اوسط عمر55 سال سے کم ہوکر 50 ہوگئی ہے۔ خواتین وزراء نے پیر کو باضابطہ طور پر اپنے عہدوں کا حلف اٹھا کر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ نئی کابینہ میں دفاع، خزانہ، صعنت و سیاحت اور علاقائی پالیسیز سمیت دیگر اہم وزارتیں خواتین کے سپرد کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں خواتین ٹریفک پولیس اہلکاروں کا بائیک اسکواڈ تیار

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے پریس کانفرنس میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انکی نئی ٹیم ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرئے گی۔ کابینہ میں خواتین کی اکثریت سے دنیا میں صنفی مساوات کی ایک مثال قائم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپین میں ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی طرف سے اپنی کابینہ میں 14 خواتین کو شامل کرنے پر دنیا بھر میں انہیں خوب سراہا جارہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کابینہ میں اس ردوبدل اور بڑی تعداد میں خواتین کی شمولیت سے اسپین معاشی بحران پر قابو پاسکتا ہے جبکہ انہیں دیگر ملکی مسائل کے حل میں بھی آسانی ہوگی۔

Facebook Comments Box