ایمیزون کے جنگلات آکسیجن نہیں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے لگے

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ جنگلات کا کٹاؤ اور آتشزدگی کے واقعات ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے جنگلات پر مشتمل ایمیزون رین فاریسٹ آکسیجن کی جگہ سالانہ ایک ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او 2) خارج کرنے لگے ہیں۔ جیسے انسانی جسم میں پھیپھڑے سانس لینے کے لیے آکسیجن جذب کرتے ہیں اس طرح ایمیزون کو زمین کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایمیزون رین فوریسٹ سالانہ اربوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے لگا ہے جس سے انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خواتین ممبران پر مشتمل اسپین کی کابینہ مرکز نگاہ

گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات یوں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں تاہم ایمیزون رین فاریسٹ کے جنگلات الٹ طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کررہےہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایمیزون رین فاریسٹ کے جنگلات جتنی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائيڈ جذب کر رہے ہيں اب اس سے کئی گنا زیادہ اخراج کرنے لگے ہیں۔

زمینی حقائق پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کاربن ڈائی اکسائيڈ گیس کے کئی گنا اضافے کی بڑی وجہ جنگلات میں بڑھتے ہوئے آتشزدگی کے واقعات اور جنگلات کا کٹاؤ ہیں جبکہ موسمياتی تبديلياں اور بڑھتا درجہ حرارت بھی ان اسباب میں شامل ہیں۔

سائنسدانوں نے برازیل کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جنگلات کے کٹاؤ کو روکنے کےلیے سخت عملی اقدامات کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون کے جنگلات کو بچانے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی اشد ضرورت ہے۔

سائنسدانوں نے ایمیزون کے جنگلات سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائید کی پیمائش کے لیے چھوٹے طیاروں کے ذریعے تجربات کیے ہیں۔

ایک تحقیقی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا جنگل پہلے کاربن ڈوب رہا تھا لیکن اب وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تیزی پیدا کرتا ہے جس کی وجہ آب و ہوا کی تبدیلی ہے۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کم درختوں کا مطلب کم بارش اور درجہ حرارت میں اضافے کا باعث ہیں۔ درختوں کی کمی  سے کم بارشیں ہو گیں اور دیگر جنگلات بھی خشک موسم کا شکار ہو کر ختم ہوسکتےہیں۔

دوسری جانب یورپی ممالک نے برازیل حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگلات کی کٹائی نہ روکی گئی تو اس کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کردیے جائیں گے۔

Facebook Comments Box