تازہ افغان تصادم میں پہلے صحافی کی ہلاکت

دانش صدیقی پلٹزر انعام یافتہ فوٹو جرنلسٹ تھے۔

امریکی افواج کے انخلاء کے شروع ہونے کے بعد سے طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جنگ کا میدان گرم ہو گیا ہے۔ تازہ افغان تصادم میں نیوز ایجنسی رائٹرز کے لیے فوٹو جرنلسٹ کی خدمات سرانجام دینے والے پہلے انڈین صحافی دانش صدیقی کی ہلاکت سے صحافی برداری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ، جبکہ انڈیا میں تعینات سفیر نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ 

فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی ان دنوں افغانستان کے شہر قندھار میں تعینات تھے۔ دانش صدیقی نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور نیوز رپورٹر کیا تھا بعدازاں انہوں نے فوٹو جرنلزم کو اپنا پیشہ بنا لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایمیزون کے جنگلات آکسیجن نہیں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے لگے

دانش صدیقی نے 2010 میں رائٹرز میں بطور انٹرنی رپورٹر کے شمولیت اختیار کی تھی تاہم اب وہ انڈیا میں رائٹرز پکچرز ٹیم کے سربراہ کے طور پر کام کررہے تھے۔

فوٹو جرنلسٹ صحافی دانش صدیقی اور عدنان عابدی کے ہمراہ ہندوستان میں پہلا فیچر فوٹوگرافی کا پلٹزر ایوارڈ جیتا تھا۔

2020 میں دہلی ہنگاموں کے دوران لی گئی دانش صدیقی کی ایک تصویر کو رائٹرز نے سال کی بہترین تصویر قرار دیا تھا۔

انڈیا میں تعینات افغانستان کے سفیر فرید ماموند زے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دانش صدیقی کی المناک موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ معلومات کے مطابق دانش صدیقی اسپن بولدک ضلع میں کیے گئے ایک حملہ میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ضلع پاکستانی سرحد سے متصل ہے۔ یہ قتل کس نے کیا ہے اس بارے میں ابھی کوئی جانکاری سامنے نہیں آسکی ہے۔

سی این این کے آفیشئل ٹوئٹر اکاؤنٹ نے صحافی دانش صدیقی المناک موت کی خبر شیئر کی ہے۔ سی این این نے لکھا ہے کہ رائٹزر کے صحافی دانش صدیقی کو افغانستان میں جھڑپوں کے دوران اسپن بولدک کے ضلع قندھار میں قتل کردیا گیا ہے۔

Facebook Comments Box