بین اینڈ جیریز کی مقبوضہ فلسطین میں آئس کریم کی فروخت بند

کمپنی کا کہنا ہے آئندہ سال ختم ہونے والے معاہدے کے بعد لائسنس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

برطانوی آئس کریم ساز کمپنی بین اینڈ جیریز نے عوامی مطالبے پر مقبوضہ فلسطین میں اپنی مصنوعات کی فروخت بند کردی۔ کمپنی نے اسرائیلی تقسیم کاروں کے لائسنس میں توسیع سے بھی انکار کردیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ تنازعے اور جنگ بندی کے بعد غزہ اور مقبوضہ علاقوں میں مقیم فلسطینیوں نے اسرائیلی مصنوعات پر پابندی کی مہم شروع کی تھی۔ کئی ماہ سے جاری مہم کے بعد بالآخر کمپنی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی مصنوعات کی فروخت بند کردی جبکہ کمپنی نے اسرائیلی تقسیم کار کے لائسنس کی توسیع سے بھی انکار کردیا ہے۔

بین اینڈ جیریز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ ہمارے اقدار کے خلاف ہے کہ ہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آئس کریم کی فروخت برقرار رکھیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ فلسطین کے اہم علاقے اسرائیل کے قبضے میں ہیں جس سے ہمارے پراعتماد شراکت داروں کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ مقبوضہ علاقوں میں اپنے مداحوں سے معافی چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فلسطین پر کیے جانے والے مظالم بھی نیتن یاہو کو بچا نہ سکے

کمپنی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ کمپنی آئندہ سال کے آخر میں ختم ہونے والے معاہدے کے بعد اس میں کسی قسم کی توسیع نہیں کرئے گی۔ انہوں نے اپنے فیصلے سے متعلق تقسیم کاروں کو بھی آگاہ کردیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم  نفتالی بینیٹ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بین اینڈ جیریز کا اپنی پراڈکٹ بند کرنے کا فیصلہ اخلاقی طور پر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں اپنی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کرنا نقصان دہ ہے۔ کمپنی کا یہ بائیکاٹ زیادہ اثر نہیں دکھائے گا، ہم کمپنی کے خلاف جنگ لڑیں گے۔

واضح رہے کہ یونی لیور کی یہ پراڈکٹ 190 سے زائد ممالک میں مشہور ہے جسے کروڑوں لوگ پسند کرتے ہیں۔

Facebook Comments Box