ایک اور 5 اگست: یوم استحصال کشمیر

بھارتی سرکار نے دو سال قبل آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔

آج سے دو سال قبل 5 اگست کو بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ساتھ ہی مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاست کا خصوصی درجہ ختم کر دیا گیاتھا۔ آج ایک مرتبہ پھر کشمریوں کی جانب سے یوم استحصال کشمیر منایا جارہا ہے۔

5 اگست کو بھارتی وزیراعظم مودی کی زیرقیادت حکومت نے اقوام متحدہ (یو این) کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کو فوجی محاصرے میں رکھتے ہوئے خصوصی حیثیت کو منسوخ کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

افغان جنگ میں بھارت کی چالاکیاں، پاکستان امن کے لیے کوشاں

مقبوضہ وادی میں ابھی تک زندگی معمول پر نہیں آئی ہے اور نہ مودی سرکار کی جانب سے لوگوں کو مطمئن اور خوشی کرنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے روراں سال جون میں کشمیری سیاستدانوں سے ملاقات کی لیکن یہ ملاقات بھی سود مند ثابت نہیں ہوئی تھی۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم ہوئے دو سال کا عرصہ گزر گیا مگر ابھی نہ تو انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی اور نہ ہی موبائل سروس کام کررہی ہے، جبکہ ذرائع ابلاغ پر بدستور پابندیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب مودی سرکار کے 5 اگست 2019 کے اقدام کی مخالفت پر تمام کشمیری قیادت زیر حراست ہے۔ آزادی کے حامی اور حریت رہنما محمد اشرف صحرائی دوران حراست جیل میں دسمبر 2020 میں انتقال کر گئے تھے۔ جبکہ بزرگ رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک سمیت دیگر قیادت کو نظربند کررکھا ہے۔

آج کے روز ممکنہ احتجاج کے پیش نظر بھارتی حکومت نے کشمیر کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے کرفیو کا نفاذ کردیا ہے۔

گزشتہ 30 سالوں سے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ابھی تک جاں بحق ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 1 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ فورسز نے غیرقانونی کارروائیاں کرتے ہوئے ایک ہزار سے زیادہ گھروں کو مسمار کردیا ہے۔

بھارتی فوج پر متنازعہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام ہے اور گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 11 ہزار سے زائد خواتین کی عصمت دری کی جاچکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوجی ابھی تک تقریبا 2500 خواتین کو گولی مار کر ہلاک کرچکے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری ذہنی مسائل کا شکار ہیں۔

دریں اثنا مودی حکومت نے 5 غیرملکی صحافیوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آنے سے روک دیاہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اور قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس حوالے سے معلومات شیئر کی ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان جو کشمیر کے سفیر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں، نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متنازعہ وادی کو بھارتی تسلط سے آزادی دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook Comments Box