افغانستان 4 جولائی 2021 سے 15 اگست 2021 تک

طالبان نے افغان دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کرکے اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے۔

طالبان نے افغان حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ 4 جولائی 2021 سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء سے شروع ہونے والا قصہ 15 اگست 2021 کو کابل پر طالبان کے قبضےکےبعد اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی خاندان سمیت تاجکستان منتقل ہو گئے۔

افغان میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوج کے انخلاء کے بعد طالبان نے مختلف صوبائی حکومتوں پر قبضے کےبعد بلاآخر افغانستان کے دارالحکومت کابل پر اپنا تسلط قائم کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جنسی ہراسگی کے الزامات پر نیویارک کے گورنر مستعفی

طالبان نے تمام حکومتی اہلکاروں اور شہریوں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا ہے۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ ہم شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمے داری لیتے ہیں، خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں، اگر کوئی غیر ملکی جانا چاہتا ہے تو شوق سے جاسکتا ہے۔ طالبان رہنماؤں نے جنگجوؤں کو کابل میں داخل ہونے سے منع کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اگلے چند دنوں میں اقتدار پرامن منتقلی چاہتے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ہزارہ کمیونٹی کے عہدیدار پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان پہنچنے والوں میں میر رحمان رحمانی ، برہان الدین ربانی کے بیٹے صلاح الدین ربانی ، احمد شاہ مسعود کے دو بھائی احمد ولی شاہ اور احمد ضیاء مسعود ، استاد کریم خلیلی ، عبدالطیف پیدرم اور خالد نور سمیت متعدد رہنما شامل ہیں۔

طالبان نے جنرل عبدالرشید دوستم کے دستے راست نظام الدین قیصاری کو گرفتار کرلیا ہے۔

دوسری طرف سابق افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ملک کو افراتفری سے بچانے کےلیے “کوآرڈینیشن کونسل” قائم کردی  گئی ہے۔ کونسل حامد کرزئی ، عبداللہ عبداللہ اور گل بدین حکمت یار پر مشتمل ہے۔ کونسل پرامن انتقال اقتدار کو ممکن بنائے گی۔ تاہم طالبان نے شوریٰ نے ایسے کسی بھی سیٹ اپ کو مسترد کردیا ہے۔

افغانستان کی لمحہ با لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ عالمی رائے عامہ اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی بھی فیورٹ نہیں ہے۔ افغانیوں کو اپنے ملک کی بہتری کے لیے خود فیصلہ کرنا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ افغان مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

ادھر امریکا ، برطانیہ ، سویڈن ، جرمنی ، سوئٹزرلینڈ اور کئی دوسرے ممالک نے افغانسان میں اپنے سفارتخانے بند کردیے ہیں، اور عملے کو واپس بلا لیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سفارتخانے کو بند نہیں کررہا ہے۔ بھارت نے اپنا سفارتخانہ پہلے ہی بند کردیا تھا اور اس کا عملہ بھی ملک سے فرار ہو چکا ہے۔

امریکا سفارتی عملے کو لے جانے کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر نے سفارتخانے میں لینڈنگ کی ۔ تمام اہم دستاویزات کو آگ لگا دی گئی ۔ بعدازاں ہیلی  کاپٹر عملے کو لے کر کابل ایئرپورٹ پہنچ گیا تھا۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کے معاہدے پر طالبان کو دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر اشرف غنی خاندان سمیت ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔

افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس طلب کرلیا ہے ۔ اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت شرکت کرے گی ۔ اجلاس میں ملکی سلامتی کے امور اور حکمت عملی پر بریفنگ دی جائے گی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دفاعی تجزیہ کاروں اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں ایسا کیا ہوا ہے کہ طالبان ملک کے طول و عرض پر قابض ہو گئے ہیں۔؟ عبدالرشید دوستم ایک بڑا جنگجو تصور کیا جاتا تھا کیا وجہ ہے تھوڑی سے مزاحمت کے بعد بھی مزار شریف طالبان کے سپرد کرکے فرار ہوگیا۔؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ افغانستان کی سرکاری فوج 3 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور ان کے پاس تمام جدید ہتھیار ہیں اور ان کو ہر طرح کی ٹریننگ دی جاچکی ہے جبکہ طالبان کی تعداد 75 ہزار ہے۔ مگر ایسا کیا ہوا ہے کہ طالبان نے آسانی سے قبضہ کرلیا ہے۔ ؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک روز پہلے تک افغان صدر اشرف غنی تمام ملک سے افواج کو اکٹھا کرنے کا اعلان کررہے تھے مگر 24 گھنٹے گزرنے سے قبل ہی ملک سے فرار ہو گئے ایسا کیا ہوا ہے۔؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان انڈیا کا ہوا ہے جس نے امریکی ایماء پر افغانستان میں کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کررکھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ آج انڈیا کے لیے اس لیے بھی افسوس کا دن ہوگا کیونکہ آج 15 اگست ہے انڈیا کو یوم آزادی اور دوسری طرف طالبان نے عین اسی دن افغانستان پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

Facebook Comments Box