بھارت کاافغان قذیہ، کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے

انڈین میڈیا کے مطابق بھارتی سرکار نے افغانستان میں 3 ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررکھی تھی۔

طالبان نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کرکے انڈیا کو وقت کی سب سے بڑی شکست سے دوچار کردیا ہے، طالبان کی فتح کے بعد انڈیا افغانستان میں بڑا نقصان اٹھانے والے ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد انڈیا کی ساری سرمایہ کاری برباد ہو گئی ہے جو اس نے افغانستان میں کررکھی تھی، جبکہ اس کی سرحدیں بھی اس ملک کے ساتھ نہیں جڑی ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

افغان صورتحال پر ملالہ اور پڑوسی ممالک تشویش میں مبتلا

بھارت نے افغانستان میں 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررکھی تھی جس میں سلما ڈیم ، دلارام-زرنج ہائی وے اور پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر  شامل ہے۔

بھارت نے ایران اور افغانستان کے ساتھ مل کر چاہ بہار کی بندرگاہ اور زرنج۔ دلارام ہائی وے کی تعمیر کا منصوبہ شروع کررکھا تھا کہ وسطی ایشیاء کی ریاستوں کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کیے جا سکیں اور کراچی سے ہونے والی تجارت کو زک پہنچائی جاسکے۔

دو دہائیاں قبل افغان جنگ شروع ہونے کے بعد سے انڈیا امریکا کا ساتھ دے رہا تھا۔ اب جب کہ ملک پر طالبان کا قبضہ ہو گیا تو اس کے اعتماد اور سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بھارت نے طالبان مخالف گروہوں کو اس وقت بھی مالی اعانت فراہم کی تھی جب افغانستان نائن الیون کے بعد سے حالت جنگ میں تھا لیکن وہ گروپس بھی طالبان کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، تاہم اب طالبان نے ملک پر قبضہ جما لیا اور صدر اشرف غنی کو چلتا کردیا ہے۔

انڈیا کی جانب سے مختلف گروپس کو فنڈنگ کی بنا پر ناراض باغی ملیشیا کے ایک گروہ نے جنوری 2020 میں انڈین ایئر لائن کا طیارہ اغواء کرلیا تھا جن کی حمایت طالبان نے کی تھی۔

کیا انڈیا کے پاس کھیلنے کے لیے کوئی کارڈ بچا ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد یقینی طور پر انڈیا کی سرگرمیاں محدود ہو جائیں گی، دوسری جانب پاکستان ، چین ، ایران اور روس نے افغان طالبان کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے تاکہ خطے سے امریکی انخلاء کو جلد از جلد ممکن بنایا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد کب تک قائم رہ سکتا ہے اس سے متعلق رائے زنی قبل از وقت ہو گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب انڈیا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ دور بیٹھ کر میچ دیکھے اور اس وقت کا انتظار کرے کہ کب اس کو دوبارہ موقع ملتا ہے میدان میں اترنے کا۔

Facebook Comments Box