نیوزی لینڈ ایک کرونا کیس پر ملک گیر لاک ڈاؤن میں داخل

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے ہم نے ڈیلٹا ویرئینٹ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران پہلا کرونا کا کیس سامنے آنے پر ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا ہے۔ نیوزی لینڈ میڈیا کے مطابق یہ کیس آکلینڈ کے ساحلی قصبے کورومینڈل میں رپورٹ ہوا ہے،  جہاں سات دن تک لاک ڈاؤن رہے گا۔

حکام کے مطابق آکلینڈ میں ایک ہفتے تک لاک ڈاؤن رہے گا جبکہ باقی سارے ملک  میں 3 دن تک لاک ڈاؤن  رہے گا۔ حکام  کا کہنا ہے کہ وہ اس پر تحقیق کررہے ہیں کہ کہیں یہ ڈیلٹا ویرئینٹ کا کیس تو نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدر کا افغانستان سے افواج کے انخلا کا دفاع

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نیوزی لینڈ میں ابھی تک صرف 20 فیصد  آبادی  کو کرونا ویکسین کی خوراک دی گئی ہے۔

وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ عالمی وباء پر قابو پانے کے لیے سخت ترین ’’ لیول 4 ‘‘ قوانین کی ضرورت ہے- اسکول ، دفاتر اور تمام کاروبار مراکز بند رہیں گے صرف اشیائے ضروریہ کے  مراکز سخت کرونا ایس او پیز کے تحت کھولے جائیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ” میں اپنی عوام کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ ہم نے اس کیس کے بعد مکمل منصوبہ بندی کرلی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مریض ایک 58 سالہ شخص ہے ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ جمعرات سے متعدی مرض میں مبتلا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں ایسے 23 مقامات ہیں جہاں سے کرونا وائرس پھیل سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ میڈیا کے مطابق آکلینڈ کی مارکیٹوں میں شدید رش دیکھا گیا ، کیونکہ لوگوں کو اس بات کا یقین تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن  لگا دیا جائے گا۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا ویرئینٹ کی قسم کے پھیلاؤ کو روکنے کےلیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے بیرون ممالک سے آنے والے شہریوں کو قرنطینہ میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

پیر کو نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ملکی سرحد پر پائے جانے والے تمام کرونا کیسز “ڈیلٹا ویرئینٹ”  کے تھے۔

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں کہنا تھا کہ اگر ہم نے اس متعدی مرض کے خلاف موثر اقدامات نہ کیے تو ہم کتنے بڑے نقصان میں مبتلا ہوسکتے ہیں، کیونکہ “ڈیلٹا ویرئینٹ” ایک گیم چینجر بھی ہوسکتا ہے۔

نیوزی لینڈ اپنی سرحدوں کے اندر سے کرونا  وائرس کو ختم کرنے میں کامیاب رہا ہے، حالانکہ اس کی بین الاقوامی سرحدیں بڑی حد دیگر ممالک کے ساتھ پھیلی ہوئی ہیں۔

حکومت کے حفاظتی اقدامات کے باوجود ملک بھر میں ویکسینیشن کا عمل سست روی کا شکار ہے اور ابھی تک صرف 20 فیصد لوگوں نے ویکسین لگوائی ہے جبکہ 33 فیصد لوگوں نے  صرف ایک خوراک حاصل کی ہے۔

Facebook Comments Box