یقین دہانی کے باوجود مغربی ممالک کا طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار

کینیڈین وزیراعظم کا کہنا ہے کہ طالبان جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوئے ہیں۔

افغانستان پر دوبارہ قابض  ہونے کے بعد ترجمان طالبان  نے  پہلی  مرتبہ  باقاعدہ  پریس کانفرنس  کی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے غیرملکیوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے اور خواتین کو شریعت کے مطابق حقوق دینے کا اعلان کیا۔ اس یقین  دہانی کے باوجود امریکا اور یورپی ممالک نے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

افغانستان پر  طالبان  کے  قبضے  کے  بعد  قطر سے طالبان کی پوری قیادت کابل پہنچ گئی ہے، جہاں طالبان رہنماؤں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس کی۔ صدارتی محل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ  مجاہد نے تمام  شہریوں  کے  تحفظ  کی  یقین دہانی کرائی اور کہا  کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، وہ پرامن طریقے سے رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ امارات اسلامی میں خواتین کو شریعت کے مطابق تمام حقوق حاصل ہوں گے۔ مائیں، بہنیں اور بیٹیوں کا  ملکی ترقی میں اہم کردار ہوگا۔ مختلف شعبوں میں خواتین شریعت کے مطابق اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کام کریں گی۔ انہوں  نے ملک میں میڈیا کی آزادی  کی  بھی  بات  کی۔

طالبان کے ترجمان کی یقین دہانی کے باوجود امریکا، کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں طالبان کو باضابطہ طور پر قبول کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ طالبان قیادت اپنی بات پر کتنا عمل کرتے ہیں اس کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو جوکہ ہمیشہ مسلمانوں  کی  حمایت  میں  سامنے  آتے  ہیں،  انہوں  نے  بھی افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار  کردیا  ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوئے ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ یورپی رہنماؤں نے طالبان قیادت کی انسانی حقوق سے متعلق کی گئی باتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے  ہوئے  انہیں تسلیم کرنے سے منع  کردیا  ہے۔  یورپی رہنماؤں نے کہا کہ طاقت کے زور پر اقتدار پر قابض ہونے والے طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔ وہ افغانستان کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

ایک طرف جہاں امریکا اور یورپی ممالک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں وہیں دوسری جانب روس اور چین کے اعلیٰ وفود کی طالبان قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، ممکنہ طور پر دونوں ممالک افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلیں گے۔

Facebook Comments Box