افغان جنگ: پاکستان اور کتنے پناہ گزینوں کا بار اٹھائے گا؟

پشاور اور بلوچستان کے راستے روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان کا رخ کررہے ہیں

افغانستان کی تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال کے بعد پاکستان میں ایک مرتبہ پھر افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں اس وقت 30 لاکھ سے زائد افغان شہری رہائش پزیر ہیں جن میں سے ہزاروں پناہ گزین پاکستان میں شناختی کارڈ بھی بنوا چکے ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے ملک میں موجود پناہ گزینوں کی واپسی اور نئے مہاجرین کی آمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں سے بڑی تعداد میں لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق ہر ہفتے تقریباً 25 ہزار افغان شہری اپنا ملک چھوڑ رہے ہیں اور آنے والے وقت میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور اور بلوچستان کے راستے روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان کا رخ کررہے ہیں۔ جس پر ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرحدیں بند کرنے اور پناہ گزینوں کو دیگر ممالک میں بھجوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان اسلامی امارت کے قیام پر طالبان کو سخت چیلنجز درپیش

ایک اندازے کے مطابق 1979 میں سوویت یونین کے اختتام سے اب تک افغان پناہ گزینوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی تعداد 14 لاکھ سے زائد ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق ملک میں اس وقت 30 لاکھ سے زائد افغان شہری رہائش پزیر ہیں جن میں سے ہزاروں پناہ گزین پاکستان میں شناختی کارڈ بھی بنوا چکے ہیں۔

افغانستان میں کشیدگی بڑھنے کے بعد سے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وفاقی وزرا مختلف اوقات میں افغان پناہ گزینوں کی ممکنہ آمد کو روکنے اور پاکستان میں رہائش پزیر افغان باشندوں کی واپسی پر زور دے رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان نے 4 دہائیوں میں 30 لاکھ سے زائد افغان باشندوں کو پناہ دی ہے۔ ہم پاکستان کے خلاف کوئی سازش برداشت نہیں کریں گے۔

Facebook Comments Box