افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کو انتباہ

کابل نے پاکستان کی درخواست پر تحریک طالبان پاکستان کے لیے اعلیٰ سطح کا کمیشن تشکیل دے دیا۔

افغان طالبان نے پاکستان کی شکایات پر ایک اعلیٰ سطح کا کمیشن تشکیل دیا ہے جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر زور دے گا کہ وہ پاکستان کے خلاف حملوں کو روکے۔

وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق تین رکنی کمیشن کی سربراہی ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کریں گے۔ افغان طالبان کا کمیشن ٹی ٹی پی کو پابند کرے گا کہ وہ اپنے معاملات پاکستان کے ساتھ حل کریں اور حکومت پاکستان کی جانب سے عام معافی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واپس چلے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

امیر البحرکی رائل اردنی افواج کی قیادت سے ملاقات

وائس آف امریکا کے مطابق تحریک طالبان پاکستان جسے عام طور پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے ، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتا رہتا ہے۔

وائس آف امریکا کے مطابق ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ معاملہ چونکہ کافی حساس ہے اس لیے اس کی تفصیلات میڈیا کو ابھی نہیں دی جارہی ہیں۔

جمعہ کے روز پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کابل کے ساتھ ٹی ٹی پی سے متعلق اپنے خدشات کا معاملہ اٹھایا تھا۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ افغان حکومت کے ساتھ بھی ٹی ٹی پی سے متعلقہ معاملہ اٹھایا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور ٹی ٹی پی قیادت کو اپنے ملک میں پناہ نہ دے۔

وائس آف امریکا کے مطابق امریکا اور اقوام متحدہ ٹی ٹی پی کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

اخبار کے مطابق فروری 2020 میں طالبان اور امریکا کے درمیان دوحہ میں معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت غیر ملکی افواج کو افغانستان سے نکلنے کی راہ ہموار کی جائے گی۔

وائس آف امریکا کے مطابق امارات اسلامی کو درخواست کی گئی ہے کہ علاقائی اور عالمی دہشتگرد تنظیموں کو افغانستان میں جمع ہونے سے روکا جائے تاکہ وہ تنظیمیں عالمی امن کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا وی او اے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “پاکستان کی تشویش جائز ہے ، اور ہماری پالیسی واضح ہے کہ ہم کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ “ٹی ٹی پی ہو یا کوئی اور دہشت گرد گروہ ان کے لیے “ہمارے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہوگی اور یہ سب کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔”

 ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو علاقائی اور بین الاقوامی ممالک کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ افغانستان کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہے، اور ہمیں اپنے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنا ہے، اور اس وقت ہمارا ملک دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے لیے پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے تحفظات کو نظر انداز کرنا انتہائی مشکل ہو گا، اور خصوصی طور پر ان دہشت گردوں کی موجودگی پر جن کے اہداف افغان سرحد کے پار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر افغان طالبان دہشت گردی کے خلاف اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ چین ، روس ، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک سب ان سے بدظن ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر افغان طالبان ٹی ٹی پی کو ہتھیار ڈالنے پر قائل نہ کرسکے تو ان کے لیے معاشی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں کیونکہ پاکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ جڑے زمینی تجارتی راستے افغانستان کے لیے زندگی کی راہیں (لائف لائنز) ہیں۔

Facebook Comments Box