غیرملکیوں کا انخلا، کیا امریکا طالبان سے ایک اور معاہدہ کر پائے گا؟

افغان طالبان کے مطابق 31 اگست تک غیر ملکیوں کا انخلا مکمل نہ ہوا تو سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد غیر ملکی شہریوں اور افغان باشندوں کا انخلا تیزی سے جاری ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی کوششیں کررہے ہیں لیکن طالبان نے مزید توسیع سے انکار کردیا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں نے 31 اگست تک کابل ایئرپورٹ نہیں چھوڑا تو سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ 

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران ہی 15 اگست کو طالبان جنگجوؤں نے کابل پر قبضہ کرلیا تھا۔ طالبان کی کابل آمد کے بعد وہاں سے بڑی تعداد میں غیر ملکی شہریوں اور افغان باشندوں کا انخلا جاری ہے۔ امریکا نے طالبان سے افغانستان سے 31 اگست تک انخلا مکمل کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن اب اس میں مزید توسیع کی باتیں ہورہی ہیں۔

گزشتہ روز دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کی تنظیم جی سیون کے اجلاس میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے امریکا پر زور دیا کہ وہ انخلا کے معاہدے میں توسیع کروائے۔ انہوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر بڑی تعداد میں افغان شہریوں کی موجودگی کے باعث غیرملکیوں کے انخلا میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے علاوہ فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے بھی امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا کی 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع کروائیں۔ امریکی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں کابل سے تمام افراد کو باہر نکالنا ممکن نہیں ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ وہ کوششیں کررہے ہیں کہ معاہدے کے تحت 31 اگست تک غیر ملکی شہریوں اور افغان باشندوں کا انخلا مکمل ہوجائے لیکن اگر اس میں تاخیر ہوتی ہے تو وہ اس پر طالبان سے بات کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے دو دن قبل کابل میں طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی جس میں مبینہ طور پر افغانستان سے امریکی انخلا کی ڈیڈ لائن سے متعلق بات چیت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا میں مدد پر دنیا پاکستان کی مشکور

دوسری جانب کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن امریکا نے ہی دی تھی، اب اس میں توسیع کسی بھی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا ایک بھی غیر ملکی اہلکار کی کابل میں موجودگی تک وہ اپنی حکومت کا اعلان نہیں کریں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغان شہریوں کے لیے ایئرپورٹ کے تمام راستے بند کردیے ہیں البتہ غیر ملکی شہری کابل ایئرپورٹ تک جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 31 اگست تک غیر ملکیوں کا انخلا مکمل نہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

ایک طرف افغان طالبان کو حکومت کے قیام اور سفارتکاری میں سنگین مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب غیر ملکی ممالک نے افغانستان کو دی جانے والی امداد بھی بند کردی ہے۔ جرمنی اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے بعد ورلڈ بینک نے بھی افغانستان کی امداد روک دی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جہاں طالبان رہنماؤں نے خواتین کے حقوق اور میڈیا کی آزادی سمیت دیگر اہم معاملات میں لچک دکھائی ہے وہیں انہیں غیرملکیوں کے انخلا میں بھی کچھ وقت کی توسیع کرنی چاہیے تاکہ وہ دنیا پر اپنا اچھا تاثر چھوڑ سکیں۔

Facebook Comments Box