امریکا کے بعد داعش طالبان کے لیے بڑا چیلنج

امریکی انخلا مکمل ہونے پر کابل میں جشن منایا گیا اور ہوائی فائرنگ کی گئی۔

امریکا 2 دہائیوں پر محیط طویل جنگ کے بعد افغانستان سے نکل گیا۔ امریکی فوج کا آخری طیارہ رات 12 بجے سے قبل ہی کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے مکمل آزادی حاصل کرلی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں داعش کے خلاف جنگ اب طالبان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگی۔

امریکا نے ستمبر 2001 میں افغانستان میں فضائی حملوں سے جنگ کی شروعات کی  اور دہشتگردی کے نام پر کابل پر قابض ہوا۔ امریکی سیکیورٹی اہلکار گزشتہ روز ڈرون حملوں کے ساتھ افغانستان چھوڑ کر چلے گئے۔ امریکا کا آخری طیارہ رات 12 بجے سے قبل ہی 20 سالہ جنگ کو الوداع کہہ کر کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔


غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ ان کا سفیر بھی افغانستان سے قطرچلا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنا سفارتی مشن کابل سے قطر منتقل کردیا ہے۔ امریکا کے ساتھ کام کرنے والے افغان باشندے اگر ملک چھوڑنا چاہیں گے تو انہیں افغانستان چھوڑنے میں معاونت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب افغانستان سے ملٹری مشن کا خاتمہ اور سفارتی مشن شروع ہوگیا ہے۔ افغانستان سے انخلا کے باوجود امریکا کی دہشتگردوں اور انسانی حقوق پر کڑی نظریں رہیں گی۔

دوسری  جانب افغانستان سے آخری امریکی پرواز کی روانگی کے اعلان پر کابل میں جشن منایا گیا۔ غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا مکمل ہونے پر طالبان جنگجوؤں نے کابل ایئرپورٹ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کی۔ اس کے علاوہ مختلف شہروں میں بھی ہوائی فائرنگ کی آواز سنی گئی۔


افغانستان سے امریکی انخلا پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ان کے ملک سے 20 سالہ طویل جنگ کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کابل میں فائرنگ پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ شہری پریشان نہ ہوں، امریکی اہلکاروں کے انخلا پر خوشی منائی جارہی ہے۔


افغان جنگ کے اختتام پر سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب طالبان کے لیے بڑا چیلنج دہشتگردی کے خلاف جنگ ہے۔ افغانستان میں مختلف دہشتگرد گروہ مضبوط ہورہے ہیں، اگر ایک مرتبہ پھر جنگ ہوئی تو اس کے پڑوسی ممالک پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔
اس حوالے سے طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں داعش کے حملے بھی بند ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے 20 سالوں تک دہشتگردوں اور امریکا کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ افغانستان سے اب تمام دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔
امریکی انخلا مکمل ہونے پر افغانستان میں طالبان جنگجوؤں اور دہشتگرد گروہوں میں جھڑپیں متوقع ہیں۔ اس حوالے سے پناہ  گزینوں کی روک تھام کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھی مختلف اقدامات اٹھا رہی ہے۔ گزشتہ روز پارلیمنٹ کی کشمیر اور دفائی کمیٹیز کے وفد نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا، جہاں انہیں افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور امن و استحکام کی کوششوں پر بریفنگ دی گئی۔

Facebook Comments Box