حریت رہنما سید علی گیلانی انتقال کرگئے

سید علی شاہ گیلانی کو الصبح  تقریباً ساڑھے چار بجے سپردخاک  کردیا  گیا۔

حریت  رہنما سید علی گیلانی طویل  علالت  کے بعد  سری  نگر  میں  انتقال  کرگئے۔ 92 سالہ کشمیری رہنما کے جسد خاکی سے خوفزدہ انڈین فوج نے پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کردیا۔

سید علی  گیلانی  کی  آخری  سانس  کے  بعد  ہی  بھارتی  فوج  نے  ان  کے گھر والوں  کو آدھے  گھنٹے  میں  تدفین کرنے  پر دباؤ  ڈالا  اور دھمکی  دی  کہ  اگر  ایسا  نہ  ہوا  تو سید علی گیلانی کو سری نگر سے دور کسی نامعلوم مقام پر دفنا دیا  جائے  گا۔

بھارتی  فوج  کی  دھمکیوں  کے  باعث سید علی شاہ گیلانی کو الصبح  تقریباً ساڑھے چار بجے سپرخاک  کردیا  گیا۔ تحریک آزادی کشمیر کے رہنما کی حیدر پورہ کے مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین میں سید شاہ گیلانی کے دو صاحبزادوں ڈاکٹر نعیم گیلانی اور سید نسیم گیلانی کے علاوہ صرف 50 افراد موجود تھے۔

حریت  رہنما  کے انتقال کے فوراً بعد سری نگر میں ان کے گھر کی طرف جانے والی سڑکوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا۔

سید علی گیلانی کو پچھلے  12 برس سے انڈین فوج نے گھر میں نظر بند کرکے رکھا  ہوا تھا۔ سید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی کشمیر پر بھارتی حکمرانی کے خاتمے کے  لیے  کی  جانے  والی  کوششوں میں وقف کردی۔ سیدعلی  گیلانی 1929 میں کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے ایک گاؤں میں پیدا  ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کی۔ سید  علی  گیلانی  کی سیاسی زندگی کا آغاز 1950 میں  ہوا۔ وہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے ایک اہم رہنما تھے۔ متعدد  بار تنظیم کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ سید  علی  گیلانی نے تحریک آزادی کو بھرپور انداز  میں آگے بڑھایا۔ سال 2003 میں تحریک حریت جموں وکشمیر کی بنیاد رکھی اور یہ  سفر  چلتا  رہا۔

کشمیری  رہنما سید علی گیلانی کے  انتقال  کی  خبر نے  جہاں وادی  میں  سوگ  کی  فضا  طاری  کردی  ہے  وہیں پاکستان  میں  بھی  اس  عظیم  رہنما  کے  دنیا  سے  رخصت  ہونے  پر سب  افسردہ  ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے رنج  وغم کا اظہار کیا ہے۔

آج  سرکاری سطح پر یوم سوگ منایا جائے  گا، اس  دوران پاکستان کا پرچم بھی سرنگوں رہے گا۔

Facebook Comments Box