بھارت نے طالبان کے خلاف پنجشیر کو کیسے خفیہ طریقے سےمسلح کیا؟

بھرت راج کا کہنا ہے کہ پنجشیر کا شیر کہلانے والے احمد شاہ مسعود سے ان کی پہلی ملاقات تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ہوئی

افغانستان کی وادی پنجشیر میں طالبان کے خلاف بغاوت کرنے والے احمد شاہ مسعود کے گروپ “شمالی اتحاد” کے ساتھ بھارت کے تعلقات کوئی راز نہیں ہے۔ بھارت 1996 سے طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کی ہر سطح پر حمایت اور ان کو مسلح کرنے میں مصروف رہا ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے شمالی اتحاد کے سربراہ کمانڈراحمد شاہ مسعود کو فوجی امداد کے لیے رابطے میں رہنے والے بھارتی سفارتکار “بھرت راج مٹھوکمار” نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے افغانستان کے علاقے وادی پنجشیر میں باغی گروپ شمالی اتحاد کو طالبان کے خلاف خفیہ طریقہ سے مسلح کرنے میں مدد کی۔ بھارت کو افغان سرزمین پر بھارتی فوجیوں کو بھیجنے کی غلطی کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے تھا۔

بھرت راج  کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے پنجشیر کا شیر کہلانے والے احمد شاہ مسعود سے ان کی پہلی ملاقات تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ہوئی۔ احمد شاہ مسعود انگریزی زبان نہیں بول سکتے تھے اس لیے امراللہ صالح جو اشرف غنی کی حکومت میں افغانستان کے  نائب صدر بنے، انھوں  نے احمد شاہ مسعود کے درمیان  مترجم کے فرائض انجام دیئے۔  اس موقع پر احمد شاہ مسعود نے بھارت سے افغان طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے مدد مانگی اور درکار مطلوبہ جنگی سامان  کی فہرست دی۔

یہ بھی پڑھیے

معتبر بھارتی تجزیہ کار بھی افغانستان میں پاکستانی فتح کے معترف

بھرت راج مٹھوکمار نئی دہلی کو باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ طالبان کے خلاف احمد شاہ  مسعود کی حمایت کرنا ایک ایسے فرد کی حمایت کرنے کے مترادف ہے جو پاکستان کے خلاف لڑ رہا ہے اس کے بعد  بھارت نے احمد شاہ مسعود کے بھائی ولی مسعود جو لندن میں مقیم تھا اس کے ذریعے  شمالی اتحاد کو وادی پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے ہر قسم کا اسلحہ اور سامان فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے 1996 سے 1999 کے درمیان پنجشیر کے مزاحمت کاروں کو دو مگ ایٹ ہیلی کاپٹر بھی بطور تحفہ دیئے  لیکن بدقسمتی سے 2001 میں احمد شاہ مسعود ایک خودکشی حملے میں مارا گیا اور اس  کے چند ہی ہفتوں بعد امریکہ اور نیٹو افواج نے افغانستان پر حملہ کرکے  طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اس طرح بھارت کا بنا بنایا کھیل بے کار ہوگیا ۔

آج دو دہائیوں کے بعد طالبان نے افغانستان پر دوبارہ قبضہ حاصل کرلیا ہے اور غیر ملکی افواج کو ملک سے نکلنے پر مجبور کردیا تاہم احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد مزاحمت جاری رکھی لیکن وادی پنجشیر جس کو ناقابل شکست سمجھا جارہا تھا  طالبان کے مکمل کنٹرول میں آگئی ہے ۔

اب جبکہ احمد مسعود پسپا ہوگیا ہے اور وادی پنجشیر طالبان کے ہاتھوں میں آگئی ہے تو احمد مسعود کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کے باعث بھارت طالبان کے دور حکومت میں افغانستان کے ساتھ اپنے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے پریشان ہے۔

Facebook Comments Box