طالبان حکومت: افغانستان انسانی بحران سے نکل پائے گا؟

عالمی امداد کی بندش کے باعث اقوام متحدہ نے افغانستان میں انسانی بحران جنم لینے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے اور نئی حکومت کے قیام کے بعد یورپی ممالک سمیت مختلف تنظیموں نے افغانستان کے لیے اپنی امداد روک دی ہے۔ اقوام متحدہ نے امداد کی بندش کے باعث افغانستان میں انسانی بحران جنم لینے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

افغانستان میں طالبان نے اپنی عبوری حکومت کا اعلان کردیا ہے۔ کابینہ میں کسی خاتون یا سابق حکمران کو شامل نہ کرنے پر دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مختلف ممالک کی جانب سے کی گئی تنقید کے بعد طالبان نے اپنی حلف برداری تقریب منسوخ کردی ہے۔

غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما اب اپنی حکومت میں غیر طالبان رہنماؤں کو بھی شامل کرنے پر غور کررہے ہیں اس لیے انہوں نے حلف برداری تقریب روک دی ہے۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ متعدد افغان رہنماؤں سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر طالبان اراکین کو بھی حکومت میں اہم عہدے دیے  جا سکتے ہیں۔

غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی ممالک اور عالمی اداروں نے افغانستان کے لیے اپنی امداد روک دی ہے جس سے انسانی بحران جنم لینے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ نے امداد بند ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربوں ڈالر کی فنڈنگ بند ہونے سے افغانستان میں بھوک اور غربت میں ریکارڈ اضافہ ہوگا۔

اقوام متحدہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجودہ بحران کنٹرول نہیں کیا گیا تو 97 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آجائے گی جبکہ مالی امداد بند ہونے سے افغانستان میں صحت کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ڈیبورا لائنز کا کہنا ہے کہ ہمیں امداد کی رقم تمام جلد افغانستان بھیجنی ہوگی لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ طالبان اس رقم کا غلط استعمال نہ کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں امداد کی رقم جلد پہنچانی ہوگی تا کہ بحران سے نمٹا جاسکے بصورت دیگر اسکا فائدہ دہشتگرد تنظیمیں اٹھا سکتیں ہیں جس کا خمیازہ پوری دنیا کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

خبررساں اداروں کے مطابق امریکا نے افغان حکومت کے 9 ارب ڈالر کے غیر ملکی اثاثے منجمد  کردیے ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اشرف غنی کی حکومت  کے خاتمے پر 440 ملین ڈالر کی امداد روک دی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ طالبان رہنماؤں پر عائد اپنی پابندیاں کم نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈبلیو ایچ او کا جنگ زدہ افغانستان میں صحت سے متعلق خدشات کا اظہار

سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی سفارتکار جیفری ڈیلورینٹیس کا کہنا تھا کہ طالبان عالمی حمایت کے خواہشمند ہیں لیکن وہ ضرورت پڑنے پر ہی طالبان رہنماؤں سے بات چیت کا سوچیں گے۔ فلحال وہ افغانستان پر عائد پابندیوں میں کمی نہیں کر سکتے۔

ایک طرف افغان طالبان کو معاشی اور سفارتی مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب ان کے لیے دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز افغانستان کے صوبے نمروز کے ضلع زرنج میں طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں داعش کا اہم کمانڈر فاروق بنگلزئی ہلاک ہوگیا ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دنیا کو یقین دلایا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، اب انہیں اپنے وعدے کو نبھانے کے لیے عملی طور پر کام کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق امریکا اور یورپ کے بعد برکس تنظیم کے ممالک نے بھی طالبان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ دہشتگرد تنظیموں کو اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے دیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق طالبان نے اپنی حکومت کا اعلان تو کردیا ہے لیکن ان کی حکمرانی کا یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔ انہیں اپنی طرز حکمرانی سے ہی افغانستان کو بحران سے نکال کر پرامن ملک بنانے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

Facebook Comments Box