بھارت میں درسی کتب سے مسلم حکمرانوں کی تاریخ مٹانے کا انکشاف
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں نیشنل کونسل فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ(این سی ای آر ٹی) کی دونمبری کا بھانڈا پھوڑ دیا

بھارت میں درسی کتب کا بوجھ کم کرنے کے نام پر مسلم حکمرانوں کی تاریخ مٹانے کا انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں نیشنل کونسل فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ(این سی ای آر ٹی) کی دونمبری کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیے
بھارتی پروفیسر نے انڈین میڈیا پر مودی کی گرفت کو بے نقاب کردیا
مودی کی اگنی پت اسکیم انکے گلے پڑگئی، پورا بھارت سڑکوں پر آگیا
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی حکمران اشرافیہ کی یہ سوچ کہ بھارت کی تاریخ دیگراقوام کے مقابلے میں حملہ آوروں اور مغلوں کی تعریف سے بھری پڑی ہے،اب اسکول کی نصابی کتب سے اس حوالے سے ایک مضبوط بازگشت ملی ہے جہاں شاید یہ سب سے اہمیت رکھتی ہے۔
اخبار کے مطابق ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ نیشنل کونسل فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی طرف سے نصابی کتب میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں کے نتیجے میں مسلمان حکمرانوں کے بارے میں مواد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
دی انڈین ایکسپریس نے چھٹی تا بارہویں جماعت میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی9 نصابی کتب کا جائزہ لیا اورمجوزہ تبدیلیوں پراین سی ای آر ٹی میں تقسیم کردہ جدولوں سے مواد کا موازنہ کیا۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ساتویں جماعت میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی درسی کتاب”ہمار اماضی II “ سے دہلی سلطنت (جس پر مملوکوں،تغلقوں ،خلجیوں اور لودھیوں سمیت کئی مسلمان خاندانوں کی حکومتیں رہیں) سے متعلق کئی صفحات حذف کردیےگئے ہیں۔
نصاب سے متعلق فیصلہ کرنے کے مجاز سرکاری ادارے این سی ای آر ٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ نصاب میں کی گئی تبدیلی کا مقصد طلبہ کے کاندھوں سے بوجھ کو کم کرنا ہے تاکہ وبائی امراض کے دوران طلبہ کے سیکھنے کے عمل کو جو دھچکا پہنچا ہے اس سے فوری بحالی ممکن ہوسکے۔
انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر دنیش سکلانی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ یہ کوئی منتخب مشق نہیں ہے،ہم نے کوشش کی ہے کہ صرف سماجی علوم نہیں بلکہ تمام مضامین میں طلبہ کے لیے نصابی بوجھ کو کم کیا جائے ۔ ہم نے ریاضی اور سائنس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بیرونی ماہرین کی مدد سے انتہائی پیشہ ورانہ طریقے سے کیا گیا ہے، این سی ای آر ٹی ماہرین کی آرا میں مداخلت نہیں کرتا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ کچھ مواد کو ہٹایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دوسری درسی کتابوں میں شامل ہے۔
سکلانی نے کہا کہ کرونا کے دوران طلبا کو درپیش مسائل سے باخبر رہنے کی بھی ضرورت ہے، وبا کے دورا ن نہ صرف سیکھنے کا نقصان ہوا بلکہ ان کا کافی وقت بھی ضائع ہوا، نصاب کا بوجھ کم کرنے میں ان کی مدد نہ کرنا بہت ناانصافی ہوتی۔









