بھارت: 10سال میں تعمیر ہونے والا نوئیڈا ٹوئن ٹاور 9 سیکنڈ میں دھماکے سے تباہ

بھارت میں 10 سال کے عرصے میں تعمیر ہونے والے100میٹر نوئیڈا ٹوئن ٹاور کوسپریم کورٹ کی جانب سے غیرقانونی قرار دیے جانے پر صرف 9 سیکنڈ میں واٹر فال امپلوشن تکنیک کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے کنٹرولڈ بلاسٹ کے ذریعے منہدم کردیا ۔
انہدام کارروائی سے قبل اتوار کی صبح 7 بجے تک سیکٹر 93A میں ایمرالڈ کورٹ اور ملحقہ اے ٹی ایس ولیج سوسائٹیزکے تقریباً5ہزار مکینوں کو باہر نکالا گیا۔ تقریباً 3ہزار گاڑیاں اوربلیوں اور کتوں سمیت تقریباً 150سے200 پالتو جانور وں کو بھی محفوظ مقام کی جانب منتقل گیا۔عمارت کو دوپہر ڈھائی بجے کنٹرولڈ بلاسٹ کے ذریعے زمین بوس کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی ڈرون حملہ، افغان وزیر دفاع نے پاکستان پر سنگین نوعیت کے الزامات لگا دیئے
پاکستان پر غلطی سے میزائل داغنے کے ذمے دار بھارتی فضائیہ کے 3افسر برطرف
ایمرالڈ کورٹ سوسائٹی کے احاطے میں اس عمارت کی تعمیر کواصولوں کے خلاف قرار دیا تھا۔دھماکے سے قبل گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے دوپہر سوا2 بجے سے پونے 3 بجے تک بندرکھی گئی جبکہ اس دوران شہر ذرونز کیلیے نوفلائی زون رہا۔نوئیڈا اتھارٹی کے مطابق دھماکے کی جگہ کے اوپر ایک ناٹیکل میل تک فضائی حدود پرواز کےلیے بند رہی۔
#WATCH | Once taller than Qutub Minar, Noida Supertech twin towers, reduced to rubble pic.twitter.com/vlTgt4D4a3
— ANI (@ANI) August 28, 2022
ممبئی میں واقع ایڈیفائس انجینئرنگ کو ڈھانچے کو محفوظ طریقے سے نیچے کھینچنے کا کام سونپا گیا تھا۔ ایڈیفائس نے اس منصوبے کے لیے جنوبی افریقا کی کمپنی جیٹ ڈیمولیشن کے ماہرین کی خدمات لی تھیں ۔
اس پوری مشق کی نگرانی مقامی نوئیڈا اتھارٹی کر رہی تھی۔ ایڈیفائس کےسربراہ نے کہا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ نے بھی حکم دیا تھا کہ یہ پروجیکٹ کم سے کم وقت میں کیا جائے اور پڑوسیوں کے رہائشیوں کو کوئی پریشانی نہ ہو، اس لیے امپلوژن تکنیک کا انتخاب کیا گیا۔
آنکھیں خیرا کردینے والے اس واقعے نے اپنے پیچھے 55ہزار ٹن ملبہ چھوڑا ہے،کچھ اندازوں کے مطابق ملبے کا وزن 80ہزار ٹن بھی ہوسکتا ہے۔امکان ہے کہ جگہ کی صفائی اور ملبہ ٹھکانے لگانے میں تقریباً 3ماہ لگیں گے۔
#WATCH | Noida, UP: Rubble of demolished #SupertechTwinTowers laid bare along with a cloud of dust in the vicinity after the demolition pic.twitter.com/0jxd4VVh0l
— ANI (@ANI) August 28, 2022
واضح رہے کہ نوئیڈا کمپنی نے سن 2000 میں ایمرالڈ کورٹ نامی پراجیکٹ شروع کیا تھا جس کے تحت 14 ٹاورز کی منظوری دی گئی تھی تاہم کمپنی نے منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے دو ہزار بارہ تک احاطے میں 14 کے بجائے15 عمارتیں تعمیر کردیں ۔
اسی کے ساتھ کمپنی نے اس منصوبے میں 40منزلہ بلندسین اور اپیکس ٹوئن ٹاور بھی شامل کردیے جس پر کمپنی اور مقامی لوگوں کے درمیان قانونی جنگ شروع ہوگئی۔ ایمرالڈ کورٹ کے رہائشیوں نے الہٰ آباد ہائیکورٹ میں کیس دائر کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تعمیر کیے جارہے ان ٹاورز کو گرانے اور ان کی منظوری کو منسوخ کرنےکی استدعا کی ۔
ध्वस्त #NoidaTwinTowers pic.twitter.com/QSmZlrmAWC
— 🦏 Payal M/પાયલ મેહતા/ पायल मेहता/ পাযেল মেহতা (@payalmehta100) August 28, 2022
ہائیکورٹ نےشہریوں کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپریل 2014 میں ٹاورز کو گرانے کا حکم دے دیا تاہم سپر ٹیک نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی اور معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2021 میں نوئیڈا ٹوئن ٹاور کو گرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹاورز غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے، اس کے بعد سپر ٹیک نے سپریم کورٹ سے اپنے حکم پر نظر ثانی کی اپیل کی۔ سپریم کورٹ میں اس کیس سے متعلق کئی سماعتیں ہوئیں۔ سماعت میں ایمرالڈ کورٹ کے رہائشیوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی شامل تھے، تاہم عدالت نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔









