احمد مسعود کا طالبان پر بھارتی امداد کی تقسیم میں اقرباپروری کا الزام

طالبان بھارتی امداد صرف اپنی افواج اور انکے اہلخانہ پر خرچ کررہے ہیں،احمد مسعود نے  کشمیر میں بڑھتی عسکریت پسندی کو بھی افغانستان میں برس اقتدار طالبان سے جوڑدیا

افغانستان میں طالبان مخالف شمالی اتحاد کے  کلیدی رہنما احمد مسعود نے طالبان حکومت پر  انسانی بنیاد پر ملنے والی  امداد کے استعمال میں اقربا پروری  اور حقیقی ضرورت مندوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کردیا۔

 بھارت اقو متحدامہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کےتحت افغانستان کو 50ہزار  ٹن گندم بھیج رہا ہے  لیکن  احمد مسعود نے  الزام عائد کیا ہے کہ طالبان نے  بھارت کی  انسانی  بنیاد پر کی گئی امداد کو حقیقی ضرورت مندوں کے بجائے اپنی افواج اور ان کے  خاندانوں کے لیے استعمال کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

افغان طالبان کا اسرائیل کیساتھ تعلقات کے قیام کا عندیہ

نامعلوم مقام پر انڈین ایکسپریس کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شیر پنجشیر کے نام سے مشہور شمالی اتحاد کے مرحوم سربراہ احمد شاہ مسعود کے فرزند احمد مسعود نے  کشمیر میں بڑھتی عسکریت پسندی کوبھی افغانستان برس اقتدار طالبان سے جوڑدیا۔

انہوں نے کہا کہ  مجھے اقتدار نہیں چاہیے،ابھی  میری جدوجہد انصاف کیلیے ہے، میری  لڑائی انصاف اور آزادی کیلیے ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ  طالبان انسانی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد منصفانہ طور پر تقسیم نہیں کررہے،دیگرعلاقوں کوچھوڑ کر ایک علاقے کو نسلی بنیاد پر امداد دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان دوبارہ تاریک دور کی طرف جارہا ہے ،انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دےرہے ہیں، وہ گھوم رہے ہیں اور آزادانہ طور پر کام کررہے ہیں۔

امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی موت کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکی حملے کے وقت القاعدہ کے سربراہ کی کابل کے وسط میں موجودگی حیران کن نہیں تھی۔انہوں نے طالبان کی خواہش کا احترام کرنا ، دہشتگردی کی خواہش کا احترام کرنے کے مترادف ہے۔

احمدمسعود نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ آگ ہے جس کے ساتھ پاکستان کھیل رہا ہے اور جلد یا بدیر ہم ضرور دیکھیں گے کہ یہ آگ خودان کے گلے پڑ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان اور روس میں تیل کی خریداری کا معاہدہ جلد طے پانے کا امکان

انہوں  نےکہا کہ طالبان کی حکومت محفوظ پناہ گاہ ہے اور خاص طور پر   جب کابل میں کوئی  قانونی حکومت نہ ہو، یہ   جیش محمد اور بہت سے دوسرے دہشت گرد گروہوں کیلیے محفوظ پناہ گاہ ہے، جو ہندوستان اور خطے کے تمام ممالک کے لیے خطرہ ہیں ۔

احمد مسعود نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے قبضے کے بعد کشمیر میں )دہشتگردی کے) واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی اور کشمیر میں تشدد میں اضافے اور ان دہشت گرد گروہوں کے تشدد میں اضافے کے درمیان براہ راست تعلق ہے، کیونکہ وہ اس بات کا  گمان کرتے ہیں کہ اگر ہم خونریزی اور دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں گے تو  طالبان کی طرح  ہمیں بھی سپورٹ کیا جائے گا، ہم کہیں اور انتہا پسند حکومت قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے۔

احمد مسعود نے کہاکہ یہ ہم سب کے لیے بہت اہم ہے کہ  تیزی سے پھیلتے ہوئے انتہا پسندانہ بیانے کو شکست دینے کیلیے تمام کوششیں تکجا کرکے بروئے کار لائی  جائیں۔

متعلقہ تحاریر