نیپال کی عدالت کا بدنام زمانہ سیریل کلر چارلس سوبھراج کو رہا کرنے کا حکم
سوبھراج نے ایک انٹرویو کے دوران 1972 سے 1976 تک 12افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا تاہم بعد میں عدالت میں مزید کیسز بننے کی وجہ سے وہ اپنے بیان سے مکر گیا تھا۔

نیپالی عدالت نے بدنام زمانہ فرانسیسی سیریل کلر چارلس سوبھراج (دی سرپنٹ)کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق عدالتی ترجمان بمل پاؤڈل نے بتایا کہ نیپالی عدالت نے سیریل کلر کو بڑھتی عمر اور گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بھارتی ایئرہوسٹس نے بدتمیزی کرنے والے مسافر کو کھڑی کھڑی سنادی
افغان حکومت نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم بھی معطل کردی، امریکا کی مذمت
78 سالا سوبھراج نیپالی جیل میں سال 1975 میں دو سیاحوں کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے تاہم مبینہ طور پر اس کے نام سے منسوب سیکڑوں کیسز تاحال حل نہیں ہو سکے ہیں۔
عدالتی ترجمان کے مطابق نیپالی سپریم کورٹ کی دور رکنی بینچ نے چارلس سوبھراج کو رہا کرتے ہوئے 15 دن کے اندر اندر اسے اپنے ملک ڈی پورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کہا کہ سوبھراج عارضہ قلب میں مبتلا ہے اور اسے اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے۔
فرانس کے زیر انتظام ویتنامی علاقے سائیگون میں جنم لینے والا سوبھراج پہلی مرتبہ 1963 میں چوری کے ایک الزام میں فرانسیسی جیل میں قید ہوا تھا، لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے جرائم کی فہرست فرانس سے یونان، ترکی، ایران، افغانستان، پاکستان، نیپال، انڈیا اور ملائیشیا سمیت تھائی لینڈ تک پھیل گئی۔
سوبھراج مختلف ملکوں میں گرفتار بھی ہوا اور اسے سزا بھی سنائی گئی تاہم وہ ان جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا، حکام کو چکمہ دے کر جیل سے بھاگ جانے کی اس کی اس صلاحیت نے اسے(دی سرپنٹ) کے نام سے مشہور کردیا۔اسی نام سے اس کی زندگی پر مبنی ایک ٹی وی سیریز بھی بنائی گئی تھی۔
سوبھراج نے ایک انٹرویو کے دوران 1972 سے 1976 تک 12افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا تاہم بعد میں عدالت میں مزید کیسز بننے کی وجہ سے وہ اپنے بیان سے مکر گیا تھا۔
سوبھراج کی سوانح حیات لکھنے والے مصنفین کے مطابق اس کا شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد نامعلوم ہے۔2014 میں نیپالی عدالت نے 1975 میں کینیڈا کی سیاحوں کے قتل کے الزام میں سوبھراج کو 20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔









