اسکولز، سینیماز، ہوٹلز اور تفریحی مقامات پر کرونا کی پابندیاں برقرار

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفاتر میں 50 فیصد عملے کی حاضری کے فیصلے پر بھی عملدرآمد جاری رہے گا۔

نیشنل کمانڈ این آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک میں اسکولز، سنیماز، ہوٹلز اور تفریحی مقامات پر کرونا سے متعلق پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شفقت محمود کے ہمراہ این سی او سی کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ ملک میں کرونا وائرس کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے بدھ کے روز اجلاس میں کچھ فیصلے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں تفریحی مقامات یا پارکس شام 6 بجے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفاتر میں 50 فیصد عملے کی حاضری کے فیصلے پر عملدرآمد کرونا کی تازہ لہر کی وجہ سے جاری رہے گا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ 15 مارچ سے سنیما ہالز کو کھولنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے اور ہوٹلز کے اندر کھانے پر بھی پابندی 15 اپریل تک برقرار رکھی جا رہی ہے۔

اُن کے مطابق 14 اپریل کو اِن اُس وقت کی صورتحال کی بنیاد پر تمام فیصلوں پر نظر ثانی کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

کرونا کی تازہ لہر، اسکولز اور تفریحی مقامات کھولنے پر نظر ثانی ممکن

اس موقع پر وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ملک میں 5 کروڑ بچے تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں اس لیے ہم نے کرونا وائرس کو تعلیم کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں حالات قابو میں ہیں اور وہاں کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایتیاطی تدابیر پر عملدرآمد جاری رکھا جائے اور 50 فیصد بچے روز اسکول آئیں۔

جبکہ صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں ابھی کرونا کی پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی اور اُن کے متعلق شکایات بھی موجود ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، گجرات، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں موجود تعلیمی اداروں میں 15 مارچ سے موسم بہار کی تعطیلات ہوں گی اور تعلیمی ادارے 2 ہفتوں کے لیے بند ہوں گے۔

 یہ تعلیمی ادارے 28 مارچ سے  دو بارہ کھل جائیں گے۔ البتہ اِس ساری صورتحال کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہے گا۔

متعلقہ تحاریر