کراچی میں جرائم بےقابو، پولیس اہلکار ٹک ٹاک میں مصروف
کراچی پولیس میں تعینات پولیس اہلکار کامران یومیہ 2 سے 3 ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے ہیں جن میں سے 80 فیصد ویڈیوز انڈین فلموں کے مواد پر مبنی ہوتی ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مغربی علاقے کے تھانے میں تعینات پولیس اہلکار کامران ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ پولیس اہلکار کامران نے اب تک بھارتی اداکاروں کے ڈائیلاگز پر مبنی درجنوں ویڈیوز بنا ڈالی ہیں۔
کراچی میں جرائم کے بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس اہلکاروں کی دلچسپی اپنے فرائض کی اجام دہی سے زیادہ ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں دیکھی جانے لگی ہے۔ پولیس اہلکار کامران یومیہ 2 سے 3 ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے ہیں جن میں سے 80 فیصد ویڈیوز انڈین فلموں کے مواد پر مبنی ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے دھاندلی کے کتنے امکانات؟
کراچی پولیس کے اہلکار کامران کبھی لاک اپ میں ڈائیلاگ بولتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی پولیس موبائل میں بیٹھ کر فنکاری کے جوہر دکھاتے ہیں۔ وہ کبھی ماتھے پر ٹیکا لگا کر اور کبھی شراب پینے کی اداکاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
خیال رہے پولیس حکام نے رواں سال مارچ میں کراچی میں پولیس یونیفارم میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر تین خواتین پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا تھا۔ خواتین اہلکاروں نے سندھ اسمبلی میں ڈیوٹی کے دوران ٹک ٹاک ویڈیو بنائی تھی۔

اسی طرح 2019 میں محکمہ پولیس پنجاب میں تعینات لاہور کی ایک خاتون پولیس اہلکار کو پولیس حکام نے سوشل میڈیا پر ویڈیو کلپ اپ لوڈ کرنے پر ملازمت سے برطرف کردیا تھا۔
پاکستان میں ٹک ٹاک کے شوقین افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے جو اس ایپلی کیشن پر اپنی ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ اس دوران ہزاروں نوجوان خطرناک انداز میں ویڈیو بنا کر ایپ پر ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں جس کے باعث گذشتہ ایک سال کے دوران درجنوں نوجوان اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔
جبکہ پولیس حکام ماضی میں ٹک ٹاک بنانے والے اہلکاروں کے خلاف ایکشن لے چکے ہیں لیکن اس کے باوجود پولیس اہلکاروں میں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کا شوق بڑھ رہا ہے۔









