پاکستانی صحافی تشدد کا پرچار کرنے لگے

اویس منگل والا نے کرپشن ختم کرنے کے لیے کرپٹ لوگوں کو ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

پاکستان کے نجی نیوز چینل ’ہم نیوز‘ سے وابستہ صحافی اور اینکر پرسن اویس منگل والا نے تشدد کا پرچار شروع کردیا اور کرپشن ختم کرنے کا اپنی سمجھ میں انوکھا طریقہ سوشل میڈیا پر بتا کر اپنے مداحوں کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں اویس منگل والا نے ملک کو کرپشن سے آزاد کرنے کا پرتشدد طریقہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک کو کرپشن سے آزاد کرنے کا طریقہ صرف یہی ہے کہ کرپٹ لوگوں کو جیلوں سے آزاد کرنے کے بجائے زندگی سے آزاد کردیا جائے۔ نہ کرپٹ انسان ہوگا اور نہ کرپشن ہوگی۔

اس ٹوئٹ کے ساتھ ہی اویس منگل والا نے ایک ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کرپٹ لوگ آزاد کیوں ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی صحافی کی جانب سے بنگلہ زبان کا تمسخر

صحافیوں کا کام عوام کو خبروں سے آگاہ رکھنا ہوتا ہے اور ایک اچھے صحافی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا کردرار ادا کرے۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی نظر آرہی ہے اور سینیئر صحافی ہی صحافتی اصولوں کے برعکس تشدد پر اکسا رہے ہیں۔

اویس منگل والا کا یہ ٹوئٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی سیاست میں کرپشن اور عدالتوں کے فیصلے زیربحث ہیں۔ پیر کے روز وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے۔ زلفی بخاری نے ٹوئٹر پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ میں تمام الزامات سے بری ہونے تک عہدے سے مستعفی رہوں گا۔ میں ہر قسم کی تحقیقات کے لیے تیار ہوں اور پاکستان میں ہی رہوں گا۔

جبکہ حال ہی میں منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو بھی جیل سے رہائی ملی ہے۔ گذشتہ دنوں شہباز شریف علاج کی غرض سے لندن رونگی کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تھے لیکن انہیں روک لیا گیا تھا۔ امیگریشن حکام نے انہیں بتایا تھا کہ پی این آئی ایل (پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ) میں نام موجود ہونے کی وجہ سے وہ پرواز میں سوار نہیں ہوسکتے۔

اس سے قبل بھی ملکی تاریخ میں کئی سیاستدانوں کے کرپشن میں ملوث ہونے، جیل جانے اور پھر جیل سے رہا ہونے کی مثالیں موجود ہیں۔ کرپشن سے آزادی کے طریقے سے متعلق ٹوئٹ میں اویس منگل والا کا اشارہ کس طرف ہے یہ تو واضح نہیں ہے لیکن ایک بات بالکل صاف ہے کہ اس طرح کا بیان دینا کسی صحافی کا کام نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر