حکومت کو ٹیکس لگائے بغیر 1500 ارب روپے اضافی آمدن کا مشورہ
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ حکومت کم ٹیکس والے شعبہ جات سے ڈیڑھ ٹریلین روپے اضافی روپے جمع کر سکتی ہے، پی بی سی کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کی مدمیں 116ارب روپے کی گنجائش موجود ہے جبکہ وصولیاں صرف 20 ارب روپے کی ہیں

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے حکومت کو کم ٹیکس والے شعبوں سے ممکنہ طور پر ڈیڑھ ٹریلین روپے سے زائد آمدن حاصل کرنے کا مشورہ دے دیا ہے ۔
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ حکومت کم ٹیکس والے شعبہ جات سے ڈیڑھ ٹریلین روپے اضافی روپے جمع کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسحاق ڈار مہنگائی کی شرح کو 50 سال کی بلند ترین سطح پر لے آئے
بزنس کونسل کے مطابق صوبوں کو زراعت اور پراپرٹی ٹیکس سے 288 ارب روپے اضافی مل سکتے ہیں جبکہ وفاق بھی ایک اعشاریہ 23 ٹریلین روپے حاصل کر سکتا ہے ۔
Potential from under-taxed sectors exceeds Rs. 1.5 trillion. Provinces can get Rs 288 Bn additional from agriculture and property tax. The federation, Rs 1.23 trillion from wholesale, retail, real estate and by curbing under-invoicing. See attached. @FinMinistryPak @imf_pakistan pic.twitter.com/QTVggJSqSX
— The Pakistan Business Council (@ThePBC_Official) February 1, 2023
پی بی سی نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہول سیل، ریٹیل، رئیل اسٹیٹ کو موثر نگرانی میں لاکر1230ارب روپے جمع کیے جا سکتے ہیں ۔
پی بی سی کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کی مدمیں 116ارب روپے کی گنجائش کے باوجود صرف20ارب روپے کی وصولی ہوتی ہےجبکہ انڈر انوائسنگ سے 1385 روپےکا نقصان ہوتا ہے ۔
پاکستان بزنس کونسل کا کہنا ہےکہ حکومت رئیل اسٹیٹ سے صرف 107 ارب روپے کی وصولیاں کرتی ہے جبکہ اس شعبے میں 234 ارب روپے کی گنجائش موجود ہے ۔
پاکستان بزنس کونسل نے بتایا کہ زراعت سے 195 روپے کی آمدن ممکن ہے جبکہ اس کے باوجود صوبے اس مد میں صرف 3 ارب روپے وصول کررہے ہیں۔









