صحافی اسد علی طور اور ٹی وی اینکر نادیہ مرزا کے درمیان گھمسان کا رن پڑگیا
اسد علی طور نے نایہ مرزا کی پرانی ٹوئٹ جس میں وہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور سابق چیف پرویز مشرف کی تصاویر شیئر کرکے جمہوریت کے متعلق گفتگو کررہی تھی کو تنقید کا نشانہ بنایا جس پر نادیہ مرزا نے بھی سوال داغا کہ لڑکی کے بھائیوں نے ہاتھ توڑا تھا وہ ٹھیک ہوگیا ہے ؟

صحافی اسد علی طور اور ٹی وی اینکر نادیہ مرزا کے درمیان گھمسان کا رن پڑگیا۔ سوشل میڈیا پر دونوں صحافیوں نے ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار کردی ہے ۔
اسد طورنے نادیہ مرزا کی ایک پرانی ٹوئٹ شیئر کرتے ہوئے کڑی تنقید کی ۔ نادیہ مرزا نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد ان کے اگلے مورچے کے دورے کی تصاویر شیئر کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
نادیہ مرزا نے دسمبر2022 میں نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی لائن آف کنٹرول کے دورے کی تصویر شیئرکرتے ہوئے کہا تھا کہ بہت عرصے بعد کسی تصویر نے دل کو چھوا ہے ۔
اسد طور نے نادیہ مرزا کی ایک اور ٹوئٹ بھی شیئر کی جس میں انہوں نے سابق صد مملکت اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے پرانے انٹرویو کا کلپ شیئر کیا ہوا تھا ۔
اینکر نادیہ مرزا کے پرویز مشرف کے وڈیو کلپ کے کیپشن میں لکھا کہ ایسی کوئی مثال ملتی ہے ہمارے جمہوریت پسند حکمرانوں میں؟۔
اسد طور نے نادیہ مرزا کی دسمبر 2022 کی ٹوئٹ کو ریٹیوئٹ کرتے ہوئے بازاری جملے کا استعمال کیا جس پر اینکر غصے سے آگ بگولا ہوگئیں اور طنزیہ ایک سوال پوچھ ڈالا ۔
اُٹھائے جانے سے بہتر ہے اُٹھاتے رہیے۔۔ https://t.co/SBQkWgv21q pic.twitter.com/Tl2M38ZtNn
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) February 8, 2023
اینکر نادیہ مرزا نے بھی اسد طور پر ترکی با ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ "وہ پوچھنا تھا کہ لڑکی کے بھائیوں نے جو ہاتھ توڑا تھا وہ ٹھیک ہو گیا؟۔
وہ پوچھنا تھا کہ لڑکی کے بھائیوں نے جو ہاتھ توڑا تھا وہ ٹھیک ہو گیا؟؟ https://t.co/vcDjJEOPEj
— Nadia Mirza (@nadia_a_mirza) February 9, 2023
یاد رہے کہ اسد طور کو ان کے گھر میں داخل ہوکر تین نا معلوم افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر صحافتی تنظیموں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا ۔
سوشل میڈیا صارفین نے اسد طور پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین یا کسی سے بھی بات کرتے ہوئے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
ٹوئٹر صارفین نے اسد طور کو نادیہ مرزا کو کڑا جواب دینے پر انہیں اخلاقیات کا سبق پڑھاتے ہوئے خود بھی غیراخلاقی اور انتہائی بیہودہ الفاط کا استعمال کرتے رہے ۔









