ملٹی نیشنل کمپنیز کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز 93 ارب تک جاپہنچے

او آئی سی سی آئی کی جانب سے 31 اکتوبر 2022 کو ایف بی آر کے ساتھ آخری مرتبہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد ٹیکس ریفنڈز میں 15 فیصد اضافہ ہوچکا، حب پاور کمپنی کے 9 ارب روپے اور کے الیکٹرک کے 8.6 ارب روپے پھنس گئے

پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز نمائندہ تنظیم او آئی سی سی آئی کی جانب سے 31 اکتوبر 2022  کو آخری مرتبہ ایف بی آر کے سامنے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد  15 فیصد بڑھ کر 93 ارب روپے ہو گئے۔

ٹیکس دہندہ کی جانب سے حکومت کو واجب الادا ٹیکس  سے زیادہ ادا کی گئی رقم کی واپسی کو  ٹیکس ریٹرن کہاجاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی؛ موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ گھٹاکر "ٹرپل سی تھری” کردی

اسٹیٹ بینک کی قبل ازوقت مانیٹری پالیسی ، شرح سود تاریخ کی بلند ترین سطح پر جانے کا امکان

کاروباری اداروں نے معمول کے مطابق ٹیکس حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے محصولات کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے واجب الادا سے زائد  ٹیکس وصول کرکے رقم کی واپسی روکے ہوئے ہیں ۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے حال ہی میں ایف بی آر کے ساتھ ٹیکس ریفنڈ کلیمز  کی ایک مکمل فہرست شیئر کی ہے  اور مطالبہ کیا ہے کہ اس عمل کو ادارہ جاتی   کیا جائے۔

او آئی سی سی آئی نے نے چیئر مین ایف بی آر عاصم ارسال کردہ خط میں  کہا ہے کہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی 2022 سے جنوری 2023 کے درمیان 208 ارب  روپے کے ریفنڈز ادا کیے ہیں، جن میں ہمارے چند ممبران بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے انکم ٹیکس ریفنڈز کے جزوی تصفیےی کی اطلاع دی ہے۔

او آئی سی آئی  کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم کے مطابق ٹیکس کی واپسی”پہلے آئیے ، پہلے پائیے“کی بنیاد پر کی طانی چاہئیں۔ٹیکس ریفنڈز کلیمز کی   فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ ادارہ حب پاور کمپنی لمیٹڈ ہے۔ اس کی بقایا آمدنی اور سیلز ٹیکس کی واپسی کی رقم 9ارب  روپے تھی۔ کے الیکٹرک 8.6 ارب  روپے کے بقایا سیلز ٹیکس ریفنڈز کے ساتھ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ فریز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ، اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ اور پراکٹر اینڈ گیمبل پاکستان لمیٹڈ کے دعوے بالترتیب 6.4 ارب روپے، 3 ارب روپے اور 2.4 ارب  روپے ہیں۔

ٹیکس ریفنڈز کے 57 فیصد سے زیادہ کلیمز انکم ٹیکس کی واپسی سے متعلق ہیں جبکہ باقی سیلز ٹیکس سے متعلق ہیں۔ایم عبدالعلیم نے چیئر مین ایف بی آر کو جاری کردہ خط میں مزید کہاک ہےہ  ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ متعلقہ ایف بی آر کمشنرز کو ہدایت کریں کہ وہ تمام زیر التواریفنڈ کیسز کا جائزہ لیں اور جائزکلیمز کے جلد از جلد تصفیے کا بندوبست کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام پرانے کیسز خوش اسلوبی سے حل کیے جائیں۔

متعلقہ تحاریر